پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ہولناک تباہی، ایٹمی حملے۔۔تیسری عالمی جنگ سر پر آگئی ، شہری خوراک جمع کر لیں ،ایٹمی حملے کی صورت میں شہری یہ چیز کھانا شروع کر دیں،روس کے سرکاری ٹی وی سے ہدایات جاری

datetime 14  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)تنازع شام تیسری عالمی جنگ چھیڑ سکتا ہے،روس نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے خوراک ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایات جاری کر دیں۔ تفصیلات کے مطابق روس کے سرکاری ٹی وی چینل ’’روسیا24‘‘نے تنازعہ شام پر تیسری عالمی جنگ چھڑنے کے خطرے سے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے انہیں خوراک ذخیرہ کرنے

اور حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ چینل نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر تیسری عالمی جنگ چھڑگئی تو اپنے گھروں یا مہلک بموں سے بچاؤ کی پناہ گاہوں میں زندہ رہنے کیلئے پروگرام میں تجویز کی جانیوالی مخصوص خوراک استعمال کریں، ان اشیامیں پیک کیے ہوئے چاول، دلیہ یا جئی کے دانے، میدے کی سویاں اور مہر بندڈبوں میں رکھا گیا گوشت شامل ہیں، اس صورتحال میں پانی بہت زیادہ مقدار میں استعمال کرنا چاہیے، پیکنگ میں رکھی گئی آیوڈین کا استعمال بھی نہایت مفید ہوگا کیونکہ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ متاثرہ شخص تابکاری اثرات سے محفوظ رہے گا، پروگرام میں بتایا گیا کہ پیک کیے گئے چاول 8 برس تک استعمال کے قابل ہوتے ہیں،Oatmeal تین سے سات برس تک قابل استعمال ہوتا ہے، تاہم روس کی مقبول گندم Bukwheat صرف ایک سال تک قابل استعمال رہتی ہے، اسی طرح مہربند ڈبوں میں رکھی گئی مچھلی2 برس سے زیادہ عرصے تک قابل استعمال نہیں رہتی، البتہ مہر بند ڈبوں میں رکھا گیا گوشت تقریباً 5 سال تک قابل استعمال رہ سکتا ہے. پروگرام میں بتایا گیا کہ عالمی جنگ کی صورت میں بھی چینی اور نمک کا معمول کی مقدارمیں استعمال جاری رکھنا چاہیے،ان حالات میں چاکلیٹ، مٹھائیوں،ٹافیوں اور condensed milk کا استعمال مفید نہیں ہوگا ، البتہ گلوکوز ضرور استعمال کرنا چاہئے کیونکہ یہ توانائی کو فوری بحال کردیتا ہے. ایک ماہر نے بتایا کہ اس دوران شہریوں کو خوراک کے ایسے اجزا کا استعمال بڑھادینا چاہیے جس میں آیوڈین زیادہ ہوتی ہے کیونکہ آیوڈین انسانی جسم کو تابکاری کےاثرات سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے. سرکاری ٹی وی کےمطابق اگر تیسری عالمی جنگ شروع ہوگئی تو امریکی عوام بدترین افراتفری اور ہیجان کا شکار ہوجائیں گے،اس کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے الیکشن کے بعدبم حملے سے بچاؤ کیلئے بنائے جانیوالے شیلٹرز کا کاروبار بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…