جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

آسٹریلیا کی یہ خاتون دھوکے سے کیسے پیسے بٹورتی تھی ،جان کر آپ دنگ رہ جائینگے ،جرم ثابت ہونے پر عدالت نے کتنی سزا سنائی؟

datetime 11  اپریل‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کینبر (آن لائن)آسٹریلیا میں ایک خاتون کو کینسر کی بیماری کی زد میں آنے کی جھوٹی خبر پھیلا کر اپنے اہل خانہ کے دوستوں سے پیسے وصول کرنے کے جرم میں تین ماہ کی قید سنادی گئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق 24 سالہ ہینا ڈکنسن نے اپنے والدین کو بتایا کہ انھیں اپنے کینسر کے بیرون ملک علاج کرانے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے اور انھوں نے ان سے 42 ہزار آسٹریلین ڈالر کی رقم حاصل کی۔عدالت کو بتایا گیا کہ

ان کے والدین نے اپنے دوستوں سے یہ رقم عطیے میں لی۔ ایسا سنا گیا کہ ڈکنسن نے اس میں سے زیادہ تر رقم اپنی چھٹیوں اور پارٹیوں میں خرچ کر دی۔جج نے اس واقعے کو قابل نفرت قرار دیا۔ڈکنسن پر میلبرن مجسٹریٹ کی عدالت میں دھوکے سے رقم حاصل کرنے کے لیے سات الزامات عائد کیے گئے۔فیصلہ سناتے ہوئے جج ڈیوڈ سٹارویگی نے کہا کہ ڈکنسن ایسے طرز عمل کی مرتکب ہوئی ہیں جو ‘انسانی فطرت کا دل توڑ کر رکھ دے۔لوگوں کی مدد کرنے کی خواہش اور سماجی یقین کو توڑا گیا ہے۔ ایسے لوگو ں کے یقین کو توڑا گیا ہے جنھوں محنت سے کمائی کی ہے اور اس گاڑھی کمائی سے ان کی مدد کی ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ ایک شخص نے اپنے کینسر کے علاج کے بعد ہسپتال سے رخصت ہوتے ہوئے دس ہزار آسٹریلین ڈالر کی مدد کی تھی۔ ایک دوسرے شخص نے چار بار پیسے دیے۔اس فریب کا پردہ اس وقت فاش ہوا جب ایک مالی مدد کرنے والے شخص نے ڈکنسن کی فیس بک پر تصاویر دیکھی اور اس نے پولیس کے سامنے اپنے شبے کا اظہار کیا۔ڈکنسن کی وکیل بیورلی لنزی نے جج سے اپیل کی کہ ان کی موکل کو قید کی سزا نہ دی جائے کیونکہ انھوں نے اپنی ‘زندگی بدل دی ہے۔انھوں نے اس دھوکے کا موازنہ آسٹریلین بلاگر بیلے گبسن سے کیا جن پر دماغی کینسر کو شکست دینے کے جھوٹے دعوے کے لیے چار لاکھ دس ہزار آسٹریلین ڈالر کا جرمانہ ہوا تھا۔وکیل نے کہا کہ ان کی موکل کا جرم گبسن سے کم سنگین ہے۔لیکن جج سٹراویگی نے کہا کہ ان دو معاملوں کا موازنہ نہیں ہو سکتا اور عدالت دوسروں کو اس طرح کی حرکت سے باز رکھنے کی پابند ہے۔وکیل نے کہا کہ ان کی موکل اس فیصلے کے خلاف ممکنہ طور پر اپیل کریں گی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…