اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

گزشتہ روز تباہ ہونے والے مسافر طیارے کی تباہی محض حادثہ نہیں تھا بلکہ اسے جان بوجھ کر گرایا گیا، پائلٹ کی آخری گفتگو منظر عام پر آ گئی، لرزہ خیز انکشافات

datetime 7  مارچ‬‮  2018 |

ماسکو (مانیٹرنگ ڈیسک) گیارہ فروری کو روس میں ایک مسافر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس میں سوار تمام 71 افراد موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اس طیارے کے پائلٹ کے آخری الفاظ سامنے آئے ہیں، طیارے کے کیبن میں حادثے سے قبل آخری لمحات میں جو پائلٹ اور معاون پائلٹ کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس کا ٹرانسکرپٹ آر بی سی نے شائع کیا ہے۔

اس ٹرانسکرپٹ کے مطابق پائلٹ کے آخری الفاظ بس اب ہم تو گئے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ان الفاظ سے پہلے پائلٹ ویلرے گوبانوف اپنے معاون سرگئی گیمباریان کو چلاتے اور ڈانٹتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ طیارے کو نیچے نہیں اوپر لے جاؤ۔پائلٹ گوبانوف چلاتے ہوئے کہتا ہے کہ میں سمجھا تم اسے اوپر لے کر جانا چاہتے ہو مگر تم تو اسے نیچے لے جا رہے ہو۔ تم اسے نیچے کیوں لے جا رہے ہو؟ کہاں؟ بلند، بلند، اوپر! اس کے بعد پائلٹ کے منہ سے نکلا بس اب ہم تو گئے، ان الفاظ کے ساتھ ہی آڈیو ختم ہو جاتی ہے۔ واضح رہے کہ گیارہ فروری کو روس کی ایئرلائنرکمپنی سیراٹوو کا ایک چھوٹا طیارہ اے این 148 ٹیک آف کے فوری بعد ہی ریڈار سے غائب ہوگیا تھا، طیارے میں عملے سمیت 71 افراد سوار تھے۔ طیارہ اورل کے شہر اورسک سے پرواز کررہا تھا۔ دیگر ذرائع کے مطابق طیارہ ماسکو سے 80 کلومیٹردور ایک علاقے آرگنووو میں کہیں گرکر تباہ ہوا۔ ایئرپورٹ حکام نے بتایا کہ پرواز کے صرف دو منٹ بعد ہی مسافر طیارہ ریڈار سے اوجھل ہوگیا تھا۔واضح رہے کہ 2015 میں سیراٹوو ایئرلائن کی خلاف ضابطہ پروازوں اور کاک پٹ میں غیرمتعلقہ عملے کو بٹھانے پر اس کا بین الاقوامی پرواز کا لائسنس معطل کردیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ایئرلائن صرف روس میں ہی کام کر رہی تھی اور اس کی زیادہ تر پروازیں جارجیا اور آرمینیا کے درمیان ہی جاری رہی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…