اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

میانمار سرحد پر واقع رووہنگیا کیمپ سے فوجی ہٹا دے ،بنگلہ دیش کا مطالبہ

datetime 2  مارچ‬‮  2018 |

ڈھاکہ (این این آئی)بنگلہ دیش نے پڑوسی ملک میانمار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے فوجی سرحد کے اس علاقے سے ہٹا لے جہاں ہزاروں روہنگیا پناہ گزین مقیم ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر واقع ایک پتلی سی پٹی پر پانچ ہزار کے قریب روہنگیا رہائش پذیر ہیں جو اپنے ملک میں اکثریتی بودھوں کی جانب سے نسلی تعصب اور تشدد کا شکار ہونے کے بعد وہاں سے فرار ہونے پر مجبور ہو گئے تھے۔

جمعرات کو میانمار (سابق نام برما) کے فوجیوں کی بڑی تعداد سرحد پر نمودار ہوئی۔بنگلہ دیش نے میانمار کے سفیر کو بلا کر ان سے جواب طلبی کی ہے۔کل ملا کر سات لاکھ کے قریب روہنگیا اس وقت اپنا وطن ترک کرنے پر مجبور ہوئے تھے جب میانمار کی حکومت کے بقول اس نے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا۔تاہم بعد میں آنے والی اطلاعات کے مطابق اس دوران بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی ہوئی، لوگوں کو قتل کیا گیا اور ان کے گھر جلا دیے گئے۔اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ وہ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ میانمار کے ان اقدامات کونسل کشی کہا جائے۔جمعرات کو ایک سو سے دو سو کے درمیان برمی فوجی سرحد پر واقع عارضی کیمپ کے قریب نمودار ہوئے۔ سرحدی محافظوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کے پاس مشین گنیں اور مورٹر تھے۔ایک روہنگیا شخص دل محمد نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ میانمار کے حکام لاؤڈ سپیکروں سے اعلانات کر رہے ہیں کہ روہنگیا یہ علاقہ چھوڑ کر چلے جائیں۔اس سے قبل اس علاقے میں میانمار کی جانب سے بڑے پیمانے پر فوجی گشتیں دیکھنے میں آئی تھیں۔ایک اور شخص محمد عارف نے اے ایف پی کو بتایا: ‘وہ اپنے ساتھ کم از کم 14 سیڑھیاں لے کر آئے تھے اور انھوں نے سرحدی جنگلے پر چڑھ کر ہمیں ڈرانے کی کوشش کی کہ وہ ہمیں اس کیمپ سے نکال باہر کریں گے۔بنگلہ دیش کے قائم مقام وزیرِ خارجہ نے میانمار کے سفیر کو بلا کر انھیں کہا کہ سرحدی علاقے میں فوجی موجودگی سے بیچینی پھیلے گی اور کشیدگی میں اضافہ ہو جائے گا۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ میانمار اپنی فوجیں اور فوجی اثاثے سرحد سے ہٹا دے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…