جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت و چین کے مابین حالا ت میں کشیدگی بڑھ رہی ہے،بھارتی آرمی چیف

datetime 18  جنوری‬‮  2018 |

نئی دہلی(آن لائن) چین کی فوجی قوت سے خوف زدہ بھارت سکم بھوٹان تبت ٹرائی جنکشن کے قریب متنازع علاقے شمالی ڈوکلام پرنظر رکھے ہوئے ہے جبکہ بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اسی سطح پر آگئے ہیں جیسے گزشتہ برس فوجوں کے آمنے سامنے آنے سے قبل تھے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے جمعرات کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ چین اور

بھارت کے مابین حالات میں کشیدگی آرہی ہے،حالات وہی آرہے ہیں جیسے گزشتہ سال دونوں ملکوں کے فوجیوں کے آمنے سامنے آنے سے پہلے تھے، سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کو خدشہ ہے کہ سردی کا سخت موسم ختم ہونے کے بعد چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے فوجی اپنی قوت دکھانے کے لئے’’بڑی تعداد‘‘ میں ڈوکلام کے علاقے میں واپس آسکتے ہیں،چینی فوج نے شمالی ڈوکلام پر انفرااسٹرکچر بنالیا ہے لیکن ہماری افواج خطے کے اعتبار سے بہتر پوزیشن پر ہیں،ہم انتظار کرو اور دیکھو کی حالت میں کسی بھی مہم جوئی کے لئے تیار ہیں،شمالی ڈوکلام میں تقریبا1600 چینی فوجی قیام پذیر ہیں اور مستقل موجودگی کے لئے ہلی پیڈ، سڑکیں، شیلٹرز اور اسٹورز بھی تعمیر کرلئے ہیں۔بپن راوت نے کہا کہ پیپلز لبریشن آرمی کے فوجی اب بھی شمالی ڈوکلام کے ایک حصے میں موجود ہیں لیکن اْن کی تعداداتنی نہیں جتنی پہلے دیکھی گئی تھی،انہوں نے انفرااسٹرکچر بھی تعمیر کرلیا ہے جو بیشتر عارضی نوعیت کا ہے لیکن ہم بھی وہاں موجود ہیں، اگر وہ آگے بڑھے تو ہم سامنا کریں گے۔واضح رہے کہ ڈوکلام ہمالیائی علاقے کا وہ پہاڑی علاقہ ہے جہاں گزشتہ سال جون میں اس وقت تنازع پیدا ہو گیا تھا جب چین کی جانب سے سڑک کی تعمیر کی کوشش کے بعد چین اور بھارت کی فوجیں آمنے سامنے آگئی تھیں،چین اور بھوٹان کے درمیان اس خطے پر تنازع ہے جبکہ بھارت بھوٹان کے دعوے کی حمایت کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…