جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

مدینہ منورہ میں زلزلہ، زردار دھماکہ کی آواز،لوگوں میں خوف و ہراس مدینہ میں زلزلہ کتنے سو سال بعد آیا ہے، کس مسلمان حکمران نےمدینہ کی زمین کوٹھہر جانے کا حکم دیا تھاکہ جس کے بعد سےابتک وہاں کبھی زلزلہ نہیں آیاتھا

datetime 17  جنوری‬‮  2018 |

ریاض/اسلام آباد(این این آئی/مانیٹرنگ ڈیسک)اسعودی عرب کے حکام نے واضح کیا ہے کہ گذشتہ روز مدینہ منورہ میں معمولی شدت کا زلزلہ آیا تاہم اس کے نتیجے میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ۔عرب ٹی وی سے بات چیت میںسعودی عرب کے قومی زلزلہ مرکز ارضیاتی آتش فشاں اتھارٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ھانی زھران نے کہاکہ 16 جنوری2018ء کو مقامی وقت کے

مطابق دو بج کر 59 منٹ پر مدینہ منورہ میں زلزلے کے جھٹکےمحسوس کیے گئے۔ ریکٹزلر اسکیل پر زلزلے کی شدت 2.5 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز مدینہ منورہ سے شمال مغرب میں 14 کلو میٹر دور تھا۔ڈاکٹر زھران نے بتایا کہ سطح زمین سے یہ زلزلہ سات کلو میٹر اندر ہوا۔ زلزلے کے وقت ایک دھماکے کی آواز بھی سنی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل مدینہ منورہ میں زلزلے کی کوئی خبر نہیں آئی۔ نا ہی آنے والے زلزلے میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔واضح رہے کہ حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں مدینہ منورہ میں آخری بار زلزلہ آیا تھا ۔ حضرت عمر ؓ زمین پر اپنا درہ لے کر بیٹھے تھے کہ زلزلے کی وجہ سے زمین کانپنے لگ گئی تھی جس پر آپؓ نے اپنا درہ اٹھا کر زمین پر مارتے ہوئے کہا تھا کہ’’اے زمین ٹھہر جا، تو کیوں کانپ رہی ہے ، کیا عمر نے تیرے پر انصاف نہیں کیا؟کہا جاتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے اس واقعہ کے بعد سے مدینہ منورہ میں کبھی زلزلہ نہیں آیا تاہم اب جبکہ ایسی صورتحال سامنے آئی ہے تو دنیا بھر کے مسلمان اور اسلامی اسکالر اسے ایک عجیب واقعہ قرار دے رہے ہیں جب کہ مدینہ منورہ میں بھی اس حوالے سے گفتگو کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مسلمانوں کے مذہبی حلقے اسے غیر معمولی واقعہ قرار دے رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…