جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

میرے پاس تم سے بھی بڑا ’’بٹن‘‘ ہے، شمالی کوریا کو ڈرانے والے ٹرمپ کے ایٹمی بٹن کاراز کھل گیا، یہ بٹن کیا کام کرتا ہے اور کس مقصد کے لیے ہے؟ پوری دنیا میں مذاق بن گیا

datetime 16  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) شمالی کوریا کے صدر کو ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اس کی میز پر کوئی ایٹمی بٹن ہمیشہ سے لگا ہوا ہے، امریکی صدر نے کہا کہ کیا اس بھوکی، ننگی اور پسماندہ قوم کا کوئی بندہ اسے یہ بتا دے گا کہ میرے پاس بھی ایک ایٹمی بٹن ہے جو اس کے بٹن سے کہیں زیادہ طاقتور ہے اور وہ کام بھی کرتا ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میز پر کوئی ایٹمی بٹن

نہیں، ان کے اوول آفس میں رکھے ہوئے ریزولوٹ ڈیسک پر خوبصورت اور خالص سرخ رنگ کا بٹن ضرور لگا ہوا ہے اور یہ بٹن ان کی دن بھر میں 12مرتبہ سافٹ ڈرنک منگوانے کے کام آتا ہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ بھی کلنٹن کی طرح ڈائٹ مشروب پینے کے شوقین ہیں اور دن میں کچھ برگر اور بارہ بوتلیں تو پی ہی جاتے ہیں۔ ریزولوٹ ڈیسک پر لگا ہوا یہ بٹن مشروب منگوانے کے کام آتا ہے اور حماقت ہی ہو گی کہ کسی صدر کے ٹیبل پر ایٹم بم چلانے کے لیے بٹن لگا دیا جائے، کیونکہ یہ ایک خطرناک کام ہے انجانے بھی اگر اسے ہاتھ لگ گیا تو ایٹم چل سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکہ کا ایٹمی پلان فٹ بال کہلاتا ہے اور فٹ بال ہی کوڈ نیم ہے اور خاکہ بھی ہے اور اس کوڈ نیم سے امریکی صدر کے سوا کوئی واقف نہیں ہے۔ فٹ بال میں امریکی ایٹمی پلان کی تمام تفصیلات درج ہیں، یہ تمام منصوبہ ایک بیگ میں محفوظ ہے جو براک ککس کہلاتا ہے اور یہ تین بٹنوں والا بیگ کبھی امریکی صدر سے جدا نہیں ہوتا اور اسی وجہ سے ایک شخص ہر وقت سائے کی طرح امریکی صدر کے ساتھ ہوتا ہے، اسی بیگ میں وہ پلان موجود ہے جسے ایٹمی بٹن کہا جاتا ہے۔ اس طرح امریکی صدر کا ایٹمی بٹن کا دعویٰ جھوٹ ثابت ہو گیا ہے اور پوری دنیا میں مذاق بن گیا ہے کیونکہ امریکی صدر ٹرمپ اس بٹن کو دبا کر صرف مشروب اور برگر منگواتے ہیں اور دنیا کو دبانے کے لیے عجیب و غریب بیانات داغتے رہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…