جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ٹرمپ انتظامیہ پاکستان میں نیٹو سپلائی کی ممکنہ بندش سے پریشان

datetime 6  جنوری‬‮  2018 |

واشنگٹن (آئی این پی ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت پاکستان میں نیٹو سپلائی کی ممکنہ بندش کے حوالے سے پریشانی کا شکار ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں افغانستان میں اس کے لیے بڑی مشکلات پیدا ہوجائیں گی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ حکومت کے اعلی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان میں زمینی و فضائی راستوں سے نیٹو سپلائی بند ہونے سے امریکا کے لیے

افغانستان میں شدید مشکلات کھڑی ہوجائیں گی، امریکی حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے متبادل راستے استعمال کرنے پر غور کررہی ہے، جن میں شمالی راستے بھی ہوسکتے ہیں لیکن وہ روٹ بہت طویل اور دشوار گزار ہوگا۔ٹرمپ انتظامیہ کے اعلی عہدیدار نے امید ظاہر کی کہ امریکا کی جانب سے امداد کی بندش امریکی تحفظات سے پاکستان کو آگاہ کرنے کے لیے کافی ہے، تاہم شاید صرف مالی امداد کی بندش کافی نہ ہو بلکہ امریکی حکومت پاکستان پر دبا بڑھانے کے لیے دیگر اقدامات پر بھی غور کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف مالی نہیں بلکہ دیگر اقدامات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، ہم امداد بند کرنے کے بعد پاکستان کے ردعمل اور اس سے نمٹنے کے طریقوں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں اور اس بات کی بھی کوشش کررہے ہیں کہ باہمی تعلقات متاثر نہ ہونے پائیں۔ دوسری جانب امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے کہ تاحال تشویش کی کوئی بات نہیں کیونکہ پاکستان نے نیٹو سپلائی بند کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔امریکا کا الزام ہے کہ افغانستان میں غیرملکی فوجیوں پر حملوں میں افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک ملوث ہے جن کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان میں ہیں، لہذا افغانستان میں کامیابی کے لیے ان محفوظ پناہ گاہوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکا نے پاکستان کی ہر طرح کی مالی و فوجی امداد روکتے ہوئے تمام تر سیکیورٹی تعاون معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…