جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ماضی کے بھارتی بزنس ٹائیکون وجے مالیا اشتہاری قرار اپنے دورکی کامیاب ترین کاروباری شخصیت پر کیا سنگین الزام ہے

datetime 5  جنوری‬‮  2018 |

نئی دہلی(آن لائن)بھارت کے نامور بزنس مین وجے ملیا کو نئی دہلی کی ایک عدالت نے ان پر عائد الزامات کی جواب دہی کے لیے حاضر نہ ہونے کی پاداش میں اشتہاری مجرم قرار دے دیا ہے۔ مالیا پر غیر ملکی کرنسی کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔اس عدالتی فیصلے کے بعد بھارتی حکومت کے لیے وجے مایا کے کاروبار اور جائداد کی ضبطگی کا راستہ کھل گیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق وجے ملیا اس وقت لندن میں ہیں جہاں

ایک عدالتی سماعت میں اس بات کا فیصلہ کیا جارہا ہے کہ انہیں بھارتی درخواست پر بھارت کے حوالے کیا جائے یا نہیں۔61 سالہ وجے اب سے چند برس قبل تک بھارت کے کامیاب ترین کاروباری شخصیت مانے جاتے تھے۔ انہوں نے کنگ فشر کے نام سے بیئر کے کاروبار کے علاوہ فارمولا ون اورایئرلائن کیکاروبار میں بھی سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔ وہ ایف ون ٹیم فورس انڈیا کے شریک مالک جبکہ انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم رائل چیلینجرز بنگلور کے مالک ہیں۔وجے پر الزام ہے کہ انہوں نے لندن اور دیگر مغربی ممالک میں ہوئی فارمولا ون ورلڈ چیمپئین شپ کے دوران ایک برطانوی کمپنی کو دو لاکھ ڈالر ادا کیے تھے تاکہ وہ ان کی کمپنی کنگ فشر کا لوگو تشہیر کے لیے استعمال کریں ۔ بھارتی حکام کے مطابق انہوں نے یہ ادائیگی قانون کے مطابق ملک کے مرکزی بینک کی اجازت کے بغیر کی تھی۔دوسری جانب بھارتی بینکوں نے رقم کی وصولی کے لیے وجے ملیا پر مقدمہ کررکھا ہے۔ بینکوں کا دعوی ہے کہ وجے کی 2012 میں بند ہوجانے والی کنگ فشر ایئرلائنز پر 1.4 ارب ڈالر واجب الادا ہیں تاہم قرضہ ادا کرنے کے بجائے وہ برطانیہ میں روپوش ہو گئے۔ اسی طرح بھارت کی مختلف عدالتوں نے ان کے خلاف درجنوں گرفتاری وارنٹ جاری کر رکھے ہیں۔اس سلسلے میں بھارتی حکومت نے وجے ملیا کی حوالگی کے لئے برطانوی حکومت سے اپیل کر رکھی ہے جس کی سماعت کی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…