اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

نئے سال کے آغاز پرعلما کرام کی طالبان سے اہم اپیل

datetime 3  جنوری‬‮  2018 |

کابل(این این آئی)افغان طالبان گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے امریکا اور اس کی حمایت یافتہ افغان حکومتوں کے خلاف جنگ و جدل میں مصروف چلے آ رہے ہیں۔ عام تاثر پایا جاتا ہے کہ انہیں مذہبی حلقوں اور اثر و رسوخ رکھنے والے علماء کی حمایت بڑے پیمانے پر حاصل ہے،

لیکن افغان علماء کی جانب سے ہی یہ مطالبہ سامنے آنا کہ طالبان خود کو شدت پسندی و دہشتگردی سے الگ کر لیں ہر کسی کے لئے حیرانی کا باعث بنا ہے۔وائس آف امریکہ کے مطابق افغان علماء کی بہت بڑی تعداد نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ افغان طالبان شدت پسند و دہشتگرد گروپوں کی حمایت چھوڑ کر افغان حکومت کے ساتھ امن و مفاہمتی عمل میں شامل ہوجائیں۔ افغان ہائی پیس کونسل، جو کہ حکومتی امداد سے چلنے والا ادارہ ہے جس کامقصد شدت پسندوں کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے، نے افغانستان کے 34 صوبوں سے 700 سے زائد علماء کو مدعو کیا تھا۔ ان تمام علماء نے دارالحکومت کابل میں منعقد ہونے والی دو روزہ کانفرنس میں شرکت کی جس کے دوران امن کے امکانات پر غور و خوض کیا گیا تاکہ افغانسان میں گزشتہ 16 سال سے جاری خانہ جنگی کا اختتام کیا جاسکے۔کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ’’طالبان کو چاہیے کہ اپنی صفوں سے ان تمام عناصر کو نکال باہر کریں جن کا تعلق بین الاقوامی دہشتگردی سے ہے اور جو اسلامی و افغان اقدار کے لئے کوئی احترام نہیں رکھتے۔‘‘ کانفرنس میں شرکت کرنے والے مذہبی سکالر عطاء اللہ فیضانی کا کہنا تھا طالبان کو افغان عوام کی امنگوں کا احترام کرنا چاہیے اور افغان ملکیتی و بین الافغان امن بات چیت میں حصہ لینا چاہیے۔ ان کے جو بھی مطالبات ہیں انہیں پرامن طریقے سے بات چیت کے ذریعے پورا ہونا چاہیے۔ انہیں تشدد کا فوری طور پر خاتمہ کرنا چاہیے جبکہ

خود کش حملوں، بم دھماکوں اور معصوم عوام کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات کا بھی فوری خاتمہ ہونا چاہیے۔‘‘ علماء کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں افغان حکومت پر بھی زور دیاگیا ہے کہ وہ لچک کا رویہ اپنائے اور بحالی امن کے عمل کو صبر تحمل کے ساتھ مکمل کرنے کی سعی کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…