پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

ٹرمپ کا متنازعہ فیصلہ،مصر نے خاموشی سے وہ کام کردیا جو ابھی تک کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا

datetime 17  دسمبر‬‮  2017 |

نیو یا رک (آن لائن)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن مماک کو ایک مجوزہ قرارداد کا مسودہ تقسیم کیا جا رہا ہے جس کہا گیا ہے کہ یروشلم کی حیثیت پر یکطرفہ فیصلے کی کوئی قانونی اہمیت نہیں ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق مصر نے ایک صفحے پر مشتمل قرارداد میں ان اقدامات کو تجویز کیا ہے اور اس پر سلامتی کونسل میں روا ں

ہفتے ووٹنگ کر سکتی ہے۔سلامتی کونسل میں قرارداد کی منظوری کے لیے کم از کم 9 رکن ممالک اور پانچ مستقل ممالک کی حمایت درکار ہوتی ہے جبکہ مستقل ممالک امریکہ، چین، فرانس، برطانیہ اور روس میں سے کوئی بھی اسے ویٹو کر کے مسترد کر سکتا ہے۔امریکی صدر کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فوری بعد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے الزام لگایا تھا کہ اقوام متحدہ دنیا کے ان مراکز میں سے ایک ہے جو اسرائیل دشمنی میں پیش پیش رہے ہیں۔ تقسیم کی جانے والی اس مجوزہ قرارداد کے مسودے میں تمام ریاستوں سے کہا جائے گا کہ وہ یروشلم میں اپنے سفارت خانے منتقل کرنے سے گریز کریں۔اطلاعات کے مطابق مجوزہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یروشلم کی حیثیت پر یکطرفہ فیصلے کو کالعدم قرار دیے دیا جائے۔سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ قرارداد کو سلامتی کونسل کے زیادہ تر رکن ممالک کی حمایت حاصل ہے لیکن

امکان ہے کہ امریکہ قرارداد کو ویٹو کر دے گا۔اس سے پہلے گذشتہ ہفتے اسلامی ممالک کے تعاون کی تنظیم او آئی سی نے دنیا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کے ‘مقبوضہ دارالحکومت’ کے طور پر تسلیم کرے۔57 مسلمان ممالک پر مشتمل تنظیم او آئی سی کا ہنگامی اجلاس ترکی کے شہر استنبول میں منعقد ہوا تھا جس میں امریکی

صدر ڈولڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو غیرقانونی قرار دیا گیا۔تنظیم نے یہ بھی کہا ہے کہ یروشلم پر فیصلہ اس بات کا عندیہ تھا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں امن بات چیت میں اپنے کردار سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔واضح رہے کہ امریکہ دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا ہے۔ اس فیصلے پر امریکہ کو عالمی سطح پر شدید مذمت کا سامنا ہے جبکہ دنیا کے مختلف ممالک میں اسرائیل، امریکہ مخالف اور فلسطین کے حق میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور مختلف فورمز پر اس فیصلے کی مذمت کی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…