جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

طیب اردوان ڈٹ گئے، بیت المقدس کوفلسطین کا دارالحکومت اور ترک سفارتخانہ کھولنے کا اعلان، مصر، اردن، لبنان اور ملائیشیا بھی تیار، اٹلی بھی ساتھ دینے کو تیار

datetime 16  دسمبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) روزنامہ امت کی رپورٹ کے مطابق ترک اور لبنانی وزرائے خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے القدس کا دارالحکومت قرار دئیے جانے کے جواب میں اسلامی ممالک فلسطین کو ایک آزاد اسلامی ریاست تسلیم کریں اور اس کے بعد بیت المقدس میں اپنا اپنا سفارتخانہ کھولنے کی تیاریاں کریں۔ لبنانی جریدے ’’ڈیلی سٹار‘‘نے انکشاف

کیا ہے کہ اس حوالے سے ترکی اور لبنان فلسطینی صدر محمود عباس سے پہلے ہی وعدہ کر چکے ہیں اور اس سلسلے میں ترک وزیر خارجہ نے عندیہ دیا ہے کہ ترکی کی جانب سے فلسطین کو ایک آزاد اسلامی ریاست تسلیم کروانے کیلئے لبنان، اردن اور مصر سمیت تمام اسلامی ممالک کی مدد سے ایک نئی عالمی تحریک شروع کی جانے والی ہے جس میں پوری دنیا میں سفارتی وفود بھیج کر فلسطین کی آزاد حیثیت کو تسلیم کروایا جائے گا۔ عرب میڈیا کے مطابق لبنانی حکومت نے بھی اعلان کیا ہے کہ فلسطین ایک آزاد ریاست ہو گی اور چونکہ اسلامی کانفرنس تنظیم نے مشرقی بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کر لیا ہے تو یورپی اور عالمی ممالک میں بھیجے جانے والے سفارتی وفود کی مدد سے ان کو قائل کیا جائے گا کہ فلسطین کو ایک آزاد ریاست تسلیم کیا جائے تاکہ بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کروا کر یہاں ترکی، لبنان ، مصر اور اردن سمیت تمام اسلامی ممالک کے سفارت خانہ کھلوائے جائیں۔ اس سلسلے میں لبنانی وزیر خارجہ جبران باسل نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے اور ایک ملاقات میں واضح کیا ہے کہ محمود عباس فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے عالمی دنیا سے رابطہ کریں تاکہ ترکی اور لبنان سمیت عالمی ممالک اپنے اپنے سفارتخان کو القدس منتقل کریں۔ اسرائیلی جریدے ’’یروشلم پوسٹ‘‘نے

بتایا ہے کہ اسرائیلی وزارت خارجہ نے ترکی اور لبنان کی جانب سے فلسطین کی آزادی کیلئے سفارتی کوششوں اور القدس میں ترک اور لبنانی سفارتخانہ کھولنے کے اعلان کے جواب میں پوری دنیا میں سفارتی وفود بھیجنے کی منظوری دے دی ہے۔ جس کے بعد افریقہ سمیت یورپی ممالک میں سینئر اسرائیلی سفارتکاروں کو ٹاسک دیا جا چکا ہے ۔ اردنی جریدے ’’جورڈن ٹائمز‘‘نے انکشاف کیا ہے

کہ ایک اعلیٰ سفارتی وفد کی سربراہی کرتے ہوئے اٹلی کے وزیر داخلہ نے شاہ اردن سے صدارتی محل میں خصوصی ملاقات کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ اٹلی مسئلہ فلسطین اور بیت المقدس پر امریکہ اور اسرائیل کے بجائے اردنی موقف کی حمایت کرتا ہے۔ ادھر ملائیشیا کے سابق وزیراعظم اور با اثر سیاسی رہنما مہاتیر محمد نے امریکہ کو مشرقی وسطیٰ کا ولن قراردیا ہے اور حکومت

پر زور دیا ہے کہ فلسطین کو ایک آزاد اسلامی ریاست کے طور پر قبول کیا جائے اور دیگر ممالک سے اسے تسلیم کروایا جائے اور بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت بنایا جائے اور یہاں تمام اسلامی ممالک کے سفارتخانے کھلوائے جائیں۔ مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ اسلامی امہ کے اتحاد سے امریکہ اور اسرائیل کے عزائم کو شکست دی جا سکتی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…