جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

افغان رکن پارلیمنٹ نے افغانستان میں بھارت کے شرمناک کردار سے پردہ اُٹھادیا،پاکستانی اہم شخصیات کو قتل کرانے کیلئے ہزاروں ڈالر دیئے جانے کا انکشاف

datetime 5  دسمبر‬‮  2017 |

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغان رکن پارلیمنٹ پیر سید اسحاق گیلانی نے کہا کہ کوئٹہ میں ڈی آئی جی حامد شکیل صابر پر حملے کا منصوبہ بنانے والوں کو افغانستان میں بھارت نے پچاس ہزار ڈالر ادا کئے، پاکستان اور افغانستان کو اپنے مشترکہ دشمنوں کے خلاف متحد ہو جانا چاہئے،پورا افغانستان غیرملکی فوجوں کے کنٹرول میں نہیں ، افغانستان کی فضاؤں پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے، افغانستان کے مختلف علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ داعش کو اسلحہ اور خوراک مہیا کی جا رہی ہے،

یہ ہیلی کاپٹر پاکستان سے نہیں پتہ نہیں کہاں سے آتے ہیں جبکہ رکن پارلیمنٹ میر ویس یاسینی افغانستان کے 34میں سے 16صوبوں میں داعش کافی مضبوط ہو چکی ہے۔ پاکستانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے افغانستان کے رکن پارلیمنٹ پیر سید اسحاق گیلانی نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین پر غیرملکی فوجیں موجود ہیں لیکن پورا افغانستان غیرملکی فوجوں کے کنٹرول میں نہیں ہے البتہ افغانستان کی فضاؤں پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے۔ کوئی ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر امریکہ کی مرضی کے خلاف افغانستان کی فضاؤں میں پرواز نہیں کر سکتا لیکن عجیب بات ہے کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ داعش کو اسلحہ اور خوراک مہیا کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہمارے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ زابل میں داعش کے جنگجوؤں کو پراسرار ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ امداد مل رہی ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر پاکستان کی طرف سے نہیں پتہ نہیں کہاں سے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے تک پاکستانی علاقے تیراہ میں ایک مدرسہ چلایا جا رہا تھا جس میں زیادہ تر چیچن، تاجک، ازبک، کرغیز، قازق اور عرب طلبہ زیر تعلیم تھے۔ تیراہ میں پاکستانی فوج کے آپریشن کے بعد یہ مدرسہ ننگرہار آ گیا اور اب اس مدرسے کو کنڑ منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس مدرسے کے طلبہ نہ پاکستانی ہیں نہ افغان، ان کے پاس وسائل کی کوئی کم نہیں، مرغی کا ایک انڈہ ایک ڈالر میں خریدتے ہیں تاکہ مقامی لوگ ان سے خوش رہیں

جبکہ کابل میں ایک ڈالر کے چھ انڈے مل جاتے ہیں۔پیر سید اسحاق گیلانی نے دعوی کیا کہ کچھ دن پہلے کوئٹہ میں ڈی آئی جی حامد شکیل صابر پر حملے کا منصوبہ بنانے والوں کو افغانستان میں بھارت نے پچاس ہزار ڈالر ادا کئے ۔ انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں کہ افغانستان کے راستے سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں ہمارے ادارے بھی ملوث ہوں لیکن غیر ملکی طاقتیں سب جانتی ہیں وہ چاہیں تو ان سازشوں کو روک سکتی ہیں۔ پیر سید اسحاق گیلانی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کو ایک دوسرے پر الزامات لگانے اور ایک دوسرے کے خلاف لڑنے کی بجائے اپنے مشترکہ دشمنوں کے خلاف متحد ہو جانا چاہئے۔

افغان پارلیمنٹ کے ایک اور رکن میر ویس یاسینی نے پیر سید اسحاق گیلانی کی کچھ باتوں سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ داعش کی مدد نہیں کر رہا بلکہ امریکہ نے داعش کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ افغانستان کے 34میں سے 16صوبوں میں داعش کافی مضبوط ہو چکی ہے۔ داعش اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان مل کر کام کر رہے ہیں اور پاک افغان سرحدی علاقے میں شیعہ سنی تنازع کی آگ بھڑکانے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ افغانستان میں داعش، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کہاں کہاں بیٹھی ہے لیکن شاید ہمارے پاس ان کے خلاف ہر جگہ ایکشن کرنے کی سکت نہیں لیکن کیا پاکستان کو بھی پتہ ہے کہ افغانستان میں حملے کرنے والے پاکستان میں کہاں کہاں بیٹھے ہیں؟ پاکستان تو ایکشن کی پوری سکت رکھتا ہے ۔ اس نے کچھ ایکشن کیا ہے لیکن ہم مزید ایکشن کی توقع رکھتے ہیں۔ ہمیں مل جل کر آگے بڑھنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…