جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سمندری طوفان ’’اوکھی‘‘نے بھارت میں تباہی مچادی، متعدد ہلاک،طوفان کے اثرات پاکستان میں کب نظر آئینگے،محکمہ موسمیات کی خوفناک پیش گوئی

datetime 2  دسمبر‬‮  2017 |

نئی دہلی(اے این این) سمندری طوفان ’’اوکھی‘‘نے بھارتی ریاستوں تامل ناڈو اور کیرالہ میں تباہی مچادی، جس کے نتیجے میں اب تک 13 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق سمندری طوفان ‘اوکھی’ کے باعث ریاست تامل ناڈو میں 6 اور کیرالہ میں 7 افراد ہلاک ہوئے جب کہ 90 سے زائد ماہی گیر لاپتہ ہیں۔لاپتہ ماہی گیروں کی تلاش کیلئے جنگی جہازوں کو جنوب مشرقی سمندر میں تعینات کردیا گیا۔طوفان کے باعث

130 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں اور زیادہ ہلاکتیں درختوں کے جڑوں سے اکھڑ کر لوگوں اور گاڑیوں پر گرنے کی وجہ سے ہوئیں۔طوفان اور تیز سمندری ہواؤں کے باعث چنائے میں اسکول بند کردیئے گئے جبکہ کوچی میں مقیم سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ساحل سے دور رہیں۔بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں طوفان کی شدت میں اضافہ متوقع ہے اور اس کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔اوکھی طوفان نے سری لنکا کا بھی رخ کیا، جس کے باعث سری لنکا میں 7ہلاکتیں ہوئیں۔دوسری جانب پاکستان کے محکمہ موسمیات نے بھارتی ریاستوں تامل ناڈو اور کیرالہ میں تباہی مچانے والے سمندری طوفان ‘اوکھی’ کے بحیرہ عرب میں داخل ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات نے ‘اوکھی’ کے بحیرہ عرب میں داخل ہونے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ سمندری طوفان کل بحیرہ عرب کے جنوب مشرق میں داخل ہوگا۔محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کے اثرات کراچی، ٹھٹھہ اور بدین میں 3 اور 4 دسمبر کو بادلوں کی صورت میں نظر آئیں گے جب کہ 4 دسمبر کو اس کی شدت کم ہونا شروع ہوجائے گی۔محکمہ موسمیات کا مزید کہنا تھا کہ اوکھی طوفان سے پاکستان کا کوئی بھی حصہ براہ راست متاثر نہیں ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…