جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان، بھارت اور افغانستان کے حوالے سے امریکا کی نئی حکمت عملی مرتب،تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہاہے کہ امریکا افغانستان میں استحکام اور مصالحت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان اور بھارت کے حوالے سے نئے نقطہ نظر کو اپنانے کے لیے غور کر رہا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی مالیاتی ترجیحات پر جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے حوالے سے نیا نقطہ نظر 21 اگست کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی جانے والی جنوبی ایشیا کے لیے پالیسی کا یہ اہم عنصر ہے۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے انسپیکٹر جنرل اسٹیو اے لینیک کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا اور خصوصی طور پر افغانستان کے حوالے سے پیش رفت کرنے کے لیے ہمیں بھارت اور پاکستان کے لیے نئے نقطہ نظر پر عمل کرنا ہوگا تاکہ دہشت گرد تنظیموں کو پناہ گاہیں نہ مل سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس نئی حکمت عملی کا اصل مقصد طالبان سے مصالحت کا عمل اور افغان حکومت کی اپنے عوام کو حفاظت فراہم کرنے کی کوشش میں تعاون فراہم کرنا شامل ہے۔رپورٹ میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو پیش آنے والے انتظامی اور کارکردگی کے مسائل اور ڈپارٹمنٹ کی جانب سے ان مسائل کے حل کے لیے کی گئی کوششوں کو سامنے لایا گیا۔سالانہ رپورٹ میں پاکستان میں جاری انسداد دہشت گردی کی معاونت کے پروگرام کی نگرانی میں درپیش مسائل کو بھی سامنے لاتے ہوئے بتایا گیا کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پاکستان میں اس معاملے کی تصدیق اور ضروری رپورٹس جمع کرائے جانے کی یقین دہانی کے لیے کوئی نمائندہ موجود نہیں ہے جبکہ بیورو نے اپنا ہدف حاصل کرنے کے لیے پیش رفت کو جانچنے کے کوئی معنی خیز ذرائع بھی نہیں اپنائے ہیں۔رپورٹ میں پاکستان سے ویزا حاصل کرنے میں پیش ہونے والے مسائل کو بھی سامنے رکھا گیا اور بتایا گیا کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ انسداد دہشت گردی کی معاونت کے پروگرام میں نظر رکھنے اور تحقیات کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے اسے بہتر بنا سکتا ہے۔

رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ ایسی صورت حال میں، جس میں کام کرنے کے ماحول میں حکومت کی جانب سے جاری دستاویزات میں ترمیم کی جائیں، تو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ذمہ دار اہلکار کی جانب سے ان ترمیم کو گائیڈ لائنز میں بھی شامل کیا جانا چاہیے۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ احتساب کے ماحول میں پیش اس نے والے مسائل کو صرف گرانٹ حاصل کرنے والوں تک محدود نہ رکھا جائے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی سیکیورٹی پالیسیز نے پاکستان سے رابطوں میں مشکلات پیدا کردی ہیں، ان میں اہلکاروں کو ملک میں سفر کرنے پر پابندی عائد کرنے جیسے عوامل بھی شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…