جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

خاندان کی رضامندی کے بغیر پسند کی شادی کرنے کیلئے گھر سے فرار ہونیوالی لڑکی کو خاندان کے افراد نے ریپ کا نشانہ بنا ڈالا

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

ظفرنگر(این این آئی) بھارتی ریاست اترپردیش میں خاندان کی رضامندی کے بغیر پسند کی شادی کرنے کے لیے گھر سے فرار ہونے والی لڑکی کو اپنے ہی خاندان کے افراد نے ریپ کا نشانہ بنا ڈالا۔حیران کن بات یہ ہے کہ لڑکی کو ریپ کا نشانہ بنانے والے افراد میں ان کا والد، بھائی اوردوچچا شامل ہیں۔بھارتی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ ضلع مظفر نگر کے چھوٹے سے گاؤں دھنیدا میں پیش آیا ۔ریپ کا نشانہ بنانے والے والد اور بھائی سمیت چاروں ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔

اسٹیشن ہاؤس آفیسر کشال پل سنگھ نے بتایا کہ انہوں نے الہ آباد ہائیکورٹ کے حکم کے بعد ملزمان کے خلاف ریپ کا مقدمہ درج کرلیا۔پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی نے اپنی شکایت میں یہ الزام بھی عائد کیا کہ اپنے ہی خاندان کے مردوں نے انہیں ریپ کرنے کے بعد دھمکایا اورانہیں گھر تک ہی محدود کردیا گیا۔پولیس نے بتایا کہ ریپ کا نشانہ بننے والی لڑکی چند ماہ قبل پسند کی شادی کرنے کے لیے گھر سے فرار ہوئی تھیں۔واضح رہے کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک بھارت میں ریپ کیسز کی شرح کئی ممالک سے زیادہ ہے، صرف 2015 میں ہی بھارت میں ریپ کے 34ہزار سے زائد واقعات رپورٹ درج کیے گئے تھے، جبکہ درج نہ ہوپانے والے واقعات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔بھارتی حکومت کے ڈیٹا کے مطابق 2015 میں ریپ کے 34 ہزار 651 کیسز ریکارڈ کیے گئے، تاہم زیادتی کے خلاف مہم چلانے والوں کا کہنا تھا کہ اصل اعداد و شمار اس سے کئی گنا زیادہ ہے اور کئی کیسز بدنامی کے ڈر کی وجہ سے ریکارڈ نہیں ہوتے۔اعداد و شمار کے مطابق 2015 میں ریاست مدھیا پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں زیادتی کے 4 ہزار 500 کے لگ بھگ کیسز رجسٹر ہوئے جو کسی بھی بھارتی ریاست میں ریپ کے رپورٹ ہونے والے سب سے زیادہ کیسز ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…