بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

مودی کی پاکستان کے بارے میں پالیسی،کتنے فیصد بھارتی شہری مطمئن ہیں؟ سروے میں حیرت انگیزانکشافات

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

واشنگٹن (این این آئی) بھارت کے اکثر شہری وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکا کے ساتھ تعلقات کو سراہتے ہیں تاہم پاکستان کے ساتھ رویے پر ناخوش ہیں۔واشنگٹن میں مقیم پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق 5 میں سے ایک بھارتی شہری نریندر مودی کے پاکستان سے متعلق رویے کی حمایت کرتے ہیں جبکہ آدھے سے زیادہ عوام امریکا کے ساتھ تعلقات کے پر خوش ہیں۔سروے میں بتایا گیا کہ بھارتی عوام کی آدھی سے بھی

کم تعداد نریندر مودی کے روس سے تعلقات کو قبول کرتی ہے جبکہ صرف ایک تہائی عوام مودی کے چین سے تعلقات کو مثبت انداز میں دیکھتی ہے۔مودی کے پاکستان سے تعلقات کی حمایت کے حوالے سے سوال پر صرف 21 فیصد جواب دہندگان نے حامی بھری جبکہ 42 فیصد نے اس کی مخالفت کی۔مودی کے امریکا سے تعلقات پر صرف 9 فیصد عوام نے مخالفت کی جبکہ 55 فیصد اس کے حامی تھے اور 36 فیصد نے اپنی رائے دینے سے انکار کیا۔اسی طرح صرف 14 فیصد عوام نے مودی کی حکومت میں روس سے تعلقات کی مخالفت کی جبکہ 56 فیصد نے اس کی حمایت کی۔مودی کی حکومت میں چین کے بھارت سے تعلقات پر 30 فیصد عوام نے حمایت کی جبکہ 33 فیصد نے اس کی مخالفت کی۔سروے کرنے والوں کے مطابق اس تشخیص میں گزشتہ سال سے کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی جبکہ 10 میں سے 4 جواب دہندگان نے اپنی رائے کے اظہار سے انکار کیا۔پیو ریسرچ سینٹر کا سروے بھارت میں 21 فروری سے 10 مارچ 2017 تک کیا گیا تھا جس میں 2 ہزار 4 سو 64 جواب دہندگان سے مذکورہ نتائج حاصل کیے گئے۔سروے میں بتایا گیا کہ بھارتی عوام وزیر اعظم نریندر مودی کے ملک کے لیے کیے گئے اقدامات اور بڑھتی ہوئی معیشت سے خوش ہیں۔سروے کرنے والوں کی جانب سے جاری بیانیے میں کہا گیا کہ مودی اپنے 5 سالہ دور میں 3 سال مکمل کرچکے ہیں لیکن بھارت کی موجودہ صورت حال پر بھارتی عوام خوش ہیں۔سروے کے نتائج کے مطابق 2015 سے اب تک نریندر مودی کی مقبولیت بھارت کے شمالی علاقوں میں تبدیل نہیں ہوئی جبکہ مغرب اور جنوبی بھارت میں بڑھی ہے اور مشرقی بھارت میں کم ہوئی ہے۔سروے کے مطابق نریندر مودی بھارت میں اب تک کی مقبول ترین سیاسی شخصیت ہیں اور ان کی بھارت میں مقبولیت کانگریس پارٹی کی رہنما سونیا گاندھی سے 31 فیصد جبکہ راہول گاندھی سے 30 فیصد زیادہ ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…