جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانیوں کی تو جیسے لاٹری ہی نکل آئی ہو سعودی حکومت کا شاندار اعلان

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اقامہ و محنت قوانین اور سرحدی سلامتی کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے 140 مما لک کے 758570 غیر ملکیوں نے شاہی مہلت سے فائدہ اٹھایا، ترجمان سعودی وزارت داخلہ میجر جنرل منصور الترکی۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی غیر قانونی تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد نے قانونی دستاویزات حاصل کرنے کیلئے بڑی

تعداد میں شاہی مہلت سے فائدہ اٹھایا ہے یہ باتسعودی وزارت داخلہ میجر جنرل منصور الترکی نے بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ اقامہ و محنت قوانین اور سرحدی سلامتی کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے 140 مما لک کے 758570 غیر ملکیوں نے شاہی مہلت سے فائدہ اٹھایا۔ان میں 20 فیصد پاکستانی ، 10 فیصد ہندوستانی، 12 فیصد مصری، 10 فیصد ایتھوپین، 8 فیصد مراکشی، 7 فیصد بنگلہ دیشی، 6 فیصد سوڈانی، 6 فیصد یمنی، 4 ، 4 فیصد ترکی و الجزائری، 2 ، 2 فیصد انڈونیشی، فلپائنی اور عراقی شامل تھے۔ ان میں سے 37 فیصد ہوائی اڈوں، بندر گاہوں اور بری سرحدی چوکیوں سے براہ راست وطن واپس ہوئے ۔ بیشتر حج ، عمر، زیارت یا ٹرانزٹ ویزوں پر مملکت آئے تھے۔ مہلت کے دوران 60 فیصد غیرقانونی تارکین ادارے ترحیل کے توسط سے واپسی کی کارروائی کرکے وطن گئے۔ الترکی نے توجہ دلائی کہ 3 فیصد نے ابھی تک سعودی عرب سے سفر نہیں کیا امید ہے کہ ویزوں کی میعاد ختم ہونے سے قبل یہ لوگ مملکت کو خیرباد کہہ دیں گے۔ الترکی نے کہا کہ مملکت میں ایسے تارکین وطن بھی ہیں جو ڈیوٹی سے غیرحاضر ہیں یا کئی برس سے اقامہ کی تجدید کرائے بغیر رہ رہے ہیں۔بعض کے پاس اقامہ ہی نہیں ہے۔ بہت سارے درانداز بھی ہیں۔ وہ جمعرات کو ریاض سیکیورٹی فورسز افسران کلب میں پریس کانفرنس کے دوران شاہی مہلت اور غیرقانونی قیام کے بابت سرکاری بیان اور صحافیوں کے سوالات کے جواب دے رہے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…