جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

دبئی ائیرپورٹ پر لمبی قطاروں سے نجات،گھنٹوں کا کام اب سیکنڈوں میں ہوگا،مسافروں کیلئے جدید ترین سہولت متعارف

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 120 نئے جدید اوراسمارٹ دروازے نصب کردیے گئے ہیں اور اس کے بعد اب مسافروں کو اپنے پاسپورٹس پر مہریں لگوانے کے کے انتظار میں لمبی قطاروں میں کھڑا نہیں ہونا پڑے گا۔دبئی کا بین الاقوامی ہوائی اڈا دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے۔دبئی کی نظامت عامہ برائے اقامت اور خارجہ امور ( جی ڈی آر ایف اے)نے مسافروں کی سہولت کے لیے تمام

ٹرمینلز پر جدید اسمارٹ گیٹ لگا دیے ہیں۔ان اسمارٹ دروازوں پر مسافروں کو پاسپورٹ دکھانے کے لیے اہلکاروں سے آمنے سامنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ انھیں چہرے شناخت کرنے والے نئے سافٹ وئیر یا پھر بائیو میٹرک ،یا الیکٹرانک پاسپورٹس کے ذریعے شناخت کر لیا جائے گا ۔اس کے بعد وہ اپنا سفری سامان لینے کی جگہ پر سیدھے جاسکیں گے اور وہاں سے اپنا سامان وصول کرسکیں گے۔جی ڈی آر ایف اے کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل محمد احمد المری نے بتایا ہے کہ ’’ مسافر بڑی آسانی سے ان دروازوں سے گزر سکیں گے۔انھیں اپنے پاسپورٹ پر مہر لگوانے کے لیے قطار میں لگنے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ایک مسافر کو اس جدید گیٹ سے گزرنے کے لیے صرف نو سے بیس سیکنڈز درکار ہوں گے‘‘۔انھوں نے بتایا ہے کہ ’’پہلے ہم برقی گیٹ استعمال کرتے رہے ہیں ۔اکتوبر میں ہم نے ان کی جدید تھرڈ جنریشن (تیسری نسل) کے اسمارٹ گیٹ نصب کردیے ہیں‘‘۔
ان کی نظامت کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق اس سال جنوری سے نومبر تک 45 لاکھ مسافروں نے اسمارٹ اور برقی دروازے استعمال کیے تھے۔اس دوران میں 26 لاکھ مسافر دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آئے تھے اور 19 لاکھ یہاں سے بیرون ملک سفر پر روانہ ہوئے تھے۔

لیکن ان اسمارٹ گیٹس کو وہی مسافر استعمال کرسکتے ہیں جن کے پاس اماراتی شناختی کارڈ ہیں۔ وہ ای گیٹ میں رجسٹرڈ ہیں یا ان کے پاس اسکائی وارڈز کارڈ اور رجسٹرڈ پاسپورٹ ہیں۔جی ڈی آر ایف اے دبئی کے ائیر پورٹ پاسپورٹ سیکٹر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل بریگیڈئیر طلال احمد الشنقیتی نے بتایا ہے کہ اسمارٹ گیٹ سے گزرنے کے لیے اندراج کا طریق کار بہت آسان ہے۔ جس کسی مسافر کی دبئی کے ہوائی اڈے سے آمد ورفت ہوگی

اور وہ معمول کے پاسپورٹ کنٹرول سے گزرے گا تو اس کے پاسپورٹ کو رجسٹر کر لیا جائے گا اور اس کے بعد جب وہ سفر کرے گا تو وہ اسمارٹ گیٹ کو استعمال کرسکے گا۔اس ڈیجیٹل پاسپورٹ میں عام پاسپورٹ کی معلومات شامل ہوں گی ۔اس کے علاوہ اس میں انگلیوں کے نشانات اور چہرے کی شناخت کا ڈیٹا بھی موجود ہوگا۔یعنی مسافر کے چہرے کو سکین کر لیا جائے گا ۔اس کے بعد جب وہ دبئی کے ہوائی اڈے سے سفر کرے گا تو ا س کے دوبارہ انگلیوں کے نشان کے بغیر ہی اسمارٹ گیٹ کھل جایا کریں گے۔تاہم 13 سال سے کم عمر کے بچے اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے اور انھیں ہوائی اڈے کے روایتی دروازوں سے گزرنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…