جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں خطرناک وباء پھوٹ پڑی،شہریوں کی زندگی مختصر، آہستہ آہستہ موت کے منہ میں جانے لگے

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ نئی دہلی میں چھائے دھند اور دھوئیں کے بادلوں کی وجہ سے سانس کے مسائل کے شکار افراد کی تعداد میں کہیں زیادہ اضافہ ہو چکا ہے اور اس سے انسانی زندگی پر انتہائی مضر اثرات پڑ رہے ہیں۔بھارتی ٹی وی کے مطابق رواں ہفتے نئی دہلی میں شدید دھوئیں اور دھند کے بعد ہسپتالوں میں تنفس کے مسائل سے جڑے مریض اپنے علاج کے لیے انتظار گاہوں میں بیٹھے کھانستے نظر آ رہے ہیں۔

نئی دہلی کے سرکاری ہسپتال ولبھ بھائی پٹیل انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹروں نے کہاکہ فضائی آلودگی کی سطح میں رواں ہفتے ڈرامائی اضافے کے بعد یہاں آنے والے مریضوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہو چکا ہے۔حکام کے مطابق موسمی حالات اور فصلوں کی کٹائی کے بعد کھیتوں میں بھوسے کو آگ لگا کر جلا دینے کے سیزن کی وجہ سے قریبی علاقوں میں نظام تنفس کی بیماریوں میں شدید اضافہ دیکھا گیا ہے۔اس ہسپتال میں زیرعلاج ایک دکان دار منوج کھاتی نے بتایا کہ انہوں نے ابتدا میں اپنی کھانسی کو عمومی سمجھا مگر وہ رفتہ رفتہ بگڑتی گئی۔ اب ڈاکٹروں نے انہیں بتایا ہے کہ وہ سانس کی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔ 46 سالہ کھاتی نے بتایاکہ تین دن تک میری کھانسی بالکل نہ رکی۔ مجھے لگا جیسے میں مر ہی جاؤں گا۔ نئی دہلی کی فضا کو آلودہ کرنے والے مضرصحت ذرات سانس کی نالی کی بندش کا سبب، امراض قلب اور پھیپھڑوں کے سرطان کا باعث بن سکتے ہیں۔ نئی دہلی میں رواں ہفتے ان ذرات کی شرح 500 کی حد عبور کرتی رہی ہے اور رواں ہفتے ایک موقع پر تو یہ شرح 1000 سے بھی اوپر چلی گئی تھی۔ یہ بات اہم ہے کہ ان ذرات کی سطح 300 سے لے کر 500 تک ہو تو اسے ’مضر‘ سمجھا جاتا ہے، جب کہ 500سے اوپر اسے باقاعدہ طور پر ایک ’خطرہ‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق PM2.5 کی زیادہ سے زیادہ سطح 25 تک قابل برداشت ہے

اور اگر کوئی بھی شخص اس سے زائد سطح میں 24 گھنٹوں سے زائد رہے، تو اس کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق سانس سے متعلقہ امراض میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں رواں ہفتے غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے اور ان میں سے زیادہ تر کو کھانسی اور سانس کی نالی میں سوزش کی شکایات کا سامنا تھا۔نئی دہلی کے سر گنگا رام ہسپتال میں سانس کی بیماریوں کے ماہر معالج اروِند کمار کے مطابق اسموگ کی وجہ سے انسانی صحت پر پڑنے والے اصل اثرات کا علم آنے والے برسوں میں ممکن ہو گا، کیوں کہ ایسی آلودگی آپ کو ’آہستہ آہستہ ہلاک‘ کرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…