اتوار‬‮ ، 08 فروری‬‮ 2026 

چین کے بعدسعودی عرب نے بھی پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کردیا

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) میں مکمل طورپر شامل ہونے اور گوادر بندرگاہ کی ترقی کیلئے عملی اقدامات میں حصہ لینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔جمعہ کو بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی میں ‘تشکیل پاکستان میں مسلم دنیا کا کردار’ کے عنوان پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے کہا کہ پاکستان کو درپیش تمام چیلنجز میں سعودی عرب ساتھ کھڑا ہے۔

سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی کے تعلقات کی اصل بنیاد اسلام ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان موجودہ صورت حال میں بہت سے چیلجنز سے نبردآزما ہے لیکن ہم پاکستان کے ساتھ ہر شعبے میں بھرپور تعاون جاری رکھیں گے۔نواف بن سعید المالکی نے کہا کہ سعودی عرب سی پیک اور گوادر پورٹ کی ترقی میں بھی پاکستان کے ساتھ ہے، ہم پاکستان کے تحفظ اور استحکام پر یقین رکھتے ہیں اور پاکستانی قوم اور افواج کی قربانیوں پر فخر ہے۔انھوں نے کہا کہ مسلم امہ کے مسائل کے حل کے لیے سعودی عرب متحرک کردار ادا کررہا ہے۔سیمیناز سے سینیٹر مشاہد حسین سید نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ تشکیل پاکستان میں سعودی عرب کا اہم کردار رہا ہے اورسعودی عرب پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کو ایٹمی دھماکے کرنے پر لگنے والی اقتصادی پابندیوں کے باوجود 2 بلین ڈالر کی امداد دی تھی۔انھوں نے کہا کہ حرمین شریفین کا تحفظ تمام عالم اسلام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔سعودی عرب کے نوجوان ولی عہد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں خواتین کو حقوق ملنا موجودہ حکومت کا اہم سنگ میل ہے اور ولی عہد محمد بن سلمان ایک روشن خیال اور ترقی پسند شخص ہیں۔حافظ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ایٹمی قوت بننے میں سعودی عرب کا مرکزی کردار ہے، سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی زیادہ سے زیادہ مالی مدد کی

اور ہمیشہ پاکستان کو دفاع اور تعلیم کے شعبے میں مضبوط کیا ہے۔اس موقع پر رکن قومی اسمبلی اعجاز الحق نے کہا کہ سعودی عرب کے جتنے بھی بادشاہ آئے ان کی پاکستان سے ایک خاص محبت رہی ہے۔پاکستان کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے اعجازالحق کا کہنا تھا کہ ضرب عضب آپریشن سے سیکیورٹی کی صورت حال میں 90 فیصد بہتری آچکی ہے تاہم تمام اسلامی ممالک کو ملکر دہشت گردی سے نبردآزما ہونے کے لیے لائحہ عمل اختیار کرنا چاہے۔چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کی بنیاد گہری ہے اور کوئی قوت نہیں جو دونوں ممالک کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…