منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

6ہزار سے زائد پاکستانی عمرے کیلئے گئے اور انہوں نے وہاں ایسی کیا حرکت کی کہ سعودی عرب بھی بول اٹھا

datetime 26  اکتوبر‬‮  2017 |

ریاض ( آن لائن ) سعودی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ 6 ہزار سے زائد پاکستانی عمرہ زائرین سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔سعودی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2017۔2016 کے دوران چودہ لاکھ تریپن ہزار چار سو چالیس (1453440) پاکستانی زائرین کوعمرے کے ویزے جاری کیے گئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سے عمرہ ادائیگی کے لیے آنے والے اکثر افراد کی تعداد

واپس چلی گئی تاہم چھ ہزار نو سو پانچ (6905) زائرین تاحال سعودی عرب میں ہی غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔سعودی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے بعد نائیجیریا کے 1629، مصر کے 1081 جبکہ انڈونیشیاء4 اور سوڈان کے 592 زائرین ویزہ ختم ہونے کے بعد بھی مملکت میں تاحال موجود ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک سال کے دوران سب سے زیادہ پاکستان اور پھر انڈونیشیاء4 سے 876،246 ، مصر 608،561 اور چوتھے نمبر پر بھارت سے پانچ لاکھ پچیس ہزار دو سو اٹھتر زائرین عمرہ ادائیگی کے لیے سعودی عرب تشریف لائے۔اس ضمن میں نیشنل کمیٹی کے سربراہ ماروان شعبان نے اعلیٰ سطح اجلاس میں تمام تر صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد وزارتِ حج و عمرہ کو ہدایت کی کہ وہ اس ضمن میں نئی پالیسی تشکیل دیں تاکہ کوئی بھی شخصعمرہ ویزے ختم ہونے کے بعد سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر رہائش اختیار نہ کرسکے۔کمیٹی نے نئی سال کے لیے عمرہ ویزوں کے لیے بھی پالیسی ترتیب دی جس کے مطابق اب یکم محرم سے 30 شوال (ہجری کلینڈر) سال کے 12 ماہ اور 300 دن عمرے کے ویزے جاری کیے جائیں گے۔واضحرہے کہ سعودی حکومت کی جانب سے کسی بھی ملک کے مسلمان باشندے کو عمرے کا ویزہ جاری کیا جاتا ہے جس کی معیاد پندرہ روز سے ایک ماہ تک کی ہوتی ہے تاہم کچھ افراد عمرہ ادائیگی کے بعد وہاں کاروبار کے لیے غیرقانونی طور پر سکونت اختیار کرلیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…