پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے کشیدگی قطر کو مہنگی پڑ گئی،اربوں قطری ریال اُڑ گئے،حیرت انگیزانکشافات

datetime 7  اکتوبر‬‮  2017 |

دوحہ(این این آئی)قطر کے پڑوسی ممالک کی جانب سے 5 جون کو شروع ہونے والے دوحہ کے بائیکاٹ کے نتیجے میں قطر کا اسٹاک ایکسچینج ریکارڈ خسارے سے دوچار ہوا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مالی بحران کے سبب ایکسچینج میں اربوں قطری ریال جھاگ بن کر اڑ گئے اور حصص اپنی مارکیٹ ویلیو کا ایک چوتھائی حصّہ کھو دینے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ یہ صورت حال جاری رہی تو سال کے اختتام تک خسارہ اس سے کہیں زیادہ ہو چکا ہو گا۔

یاد رہے کہ قطر کی جانب سے دہشت گردی کی سپورٹ اور فنڈنگ کے سبب چار ممالک سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصر نے جون کے پہلے ہفتے سے دوحہ کا مکمل بائیکاٹ کر رکھا ہے۔قطر اسٹاک ایکسچینج کو درپیش بھاری مالی نقصان کی وجہ یہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری فنڈز دوحہ سے راہ فرار اختیار کرنے اور اس کے ایکسچینج سے نکلنے کے لیے جاری دوڑ میں شریک ہیں۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قطر کے اسٹاک ایکسچینج میں کمپنیوں اور بینکوں کے چوتھی سہہ ماہی کے نتائج کے انتظار میں گہری تشویش چھائی ہوئی ہے جن کے بارے میں توقع ہے کہ یہ بحران سے متاثر ہوں گے۔خلیجی بحران کے آغاز سے اب تک صرف چار ماہ میں قطر اسٹاک ایکسچینج میں حصص کی مارکیٹ ویلیو میں 18% تک کمی واقع ہو چکی ہے۔ قطر اسٹاک ایکسچینج کے سرکاری ڈیٹا کی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ گروپ چار کے ممالک کے بائیکاٹ سے ایک روز قبل چار جون 2017 بروز اتوار مرکزی انڈیکس 9923 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ اس کے اگلے روز ہی انڈیکس 7.1% گر گیا جب کہ سفارتی بحران کے چار ماہ پورے ہونے پر جمعرات پانچ اکتوبر کو انڈیکس 8132 پوائنٹس تک نیچے آ چکا تھا۔ اس طرح محض چار ماہ میں ایکسچینج کے انڈیکس میں 18% کی کمی ہوئی۔ نو برس قبل دنیا بھر کو ہلا دینے والے عالمی مالیاتی بحران کے بعد یہ قطر کے ایکسچینج کا سب سے بڑا خسارہ ہے۔واضح رہے کہ سال 2017 کے آغاز پر قطری اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس 10436 پوائنٹس کی سطح پر تھا۔

اس طرح پانچ اکتوبر جمعرات کے روز تک ایکسچینج مجموعی طور پر 22% کے خسارے سے دوچار ہو چکا ہے۔اعداد و شمار کی زبان میں دیکھا جائے تو نو ماہ کے دوران قطری اسٹاک ایکسچینج کے 124 ارب ریال (33.3 ارب ڈالر) جھاگ بن کر اڑ چکے ہیں۔ سال کے پہلے روز حصص کی مجموعی مارکیٹ ویلیو 563.5 ارب ریال تھی جب کہ جمعرات کے روز مارکیٹ بند ہونے پر یہ مالیت 439.5 ارب ریال تک نیچے آ چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…