ہفتہ‬‮ ، 27 جون‬‮ 2026 

امریکہ ،نیٹو اور افغانستان کا پاکستان کو ’’راضی‘‘ کرنے کا فیصلہ بڑی یقین دہانی کروادی گئی

datetime 30  ستمبر‬‮  2017 |

واشنگٹن (آئی این پی)امریکی اور نیٹو افواج نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ خطے کی نئی پالیسی کے حوالے سے پاکستان پر زور دیا ہے کہ نئی امریکی پالیسی کو جنوبی ایشیا میں پاکستان کو تنہا کرنے کے اقدام کے طور پر نہ دیکھا جائے۔یہ بات افغان صدر اشرف غنی، امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ کی کابل میں ہونے والی ملاقات کے دوران کہی گئی ہے ۔

واشنگٹن میں موجود امریکی فوجی ہیڈ کوارٹر پینٹاگون کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں امریکی سیکریٹری دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ امریکا اب دیکھے گا کہ پاکستان کس چیز کا انتخاب کرتا ہے۔اعلامیے کے مطابق جب نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ سے سوال کیا گیا کہ کیا افغان عمل میں پاکستان دوری اختیار کر سکتا ہے جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے بیان کردہ نئی حکمت عملی کو جس وجہ سے ہم خوش آئند کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ حکمت عملی خطے کی بڑی طاقتوں، پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے ہی فائدہ مند ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم خطے میں موجود تمام ممالک کو افغانستان میں افغان امن عمل میں حصہ دار بننے پر زور دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت بھی اس عمل میں باہمی نقطہ نظر کے ساتھ شامل ہوں۔نیٹو سربراہ نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ بھارت کو اس خطے کی حکمت عملی میں شامل کرنے سے مسائل پیدا ہوں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر بھارت کو افغان امن عمل میں شامل نہیں کیا جاتا تو یہ ایک بہت بڑی غلطی ہوگی۔پینٹاگون اعلامیے کے مطابق امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی خطے کے لیے نئی حکمت عملی پاکستان کے لیے انسداد دہشت گردی کی مہم میں شامل ہونے کا ایک بہترین موقع ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حکمت عملی میں خطے کے کسی بھی ملک کو الگ نہیں کیا جائے گا،

بلکہ اس میں ان تمام ریاستوں کو شامل کیا جائے گا جو خطے میں دہشت گردی کی روک تھام چاہتی ہیں اور معصوم لوگوں کا دفاع کرتی ہیں۔جیمز میٹس نے کہا کہ جہاں تک پاکستان کا سوال ہے تو امریکا دیکھے گا کہ پاکستان کس چیز کا انتخاب کرے گا۔امریکی سیکریٹری دفاع نے واضح کیا کہ امریکا، افغان حکومت، نیٹو افواج اور جنوبی ایشیائی ریاستوں کی حکومتوں کے ساتھ مل کر افغان عمل کے حوالے سے کام جاری رکھے گا اور یہ کوشش کی جائے گی کہ خطے میں موجود ریاستوں کو متحد کر کے طالبان، داعش اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف متحرک کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…