جمعہ‬‮ ، 28 مارچ‬‮ 2025 

امریکہ ،نیٹو اور افغانستان کا پاکستان کو ’’راضی‘‘ کرنے کا فیصلہ بڑی یقین دہانی کروادی گئی

datetime 30  ستمبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

واشنگٹن (آئی این پی)امریکی اور نیٹو افواج نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ خطے کی نئی پالیسی کے حوالے سے پاکستان پر زور دیا ہے کہ نئی امریکی پالیسی کو جنوبی ایشیا میں پاکستان کو تنہا کرنے کے اقدام کے طور پر نہ دیکھا جائے۔یہ بات افغان صدر اشرف غنی، امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ کی کابل میں ہونے والی ملاقات کے دوران کہی گئی ہے ۔

واشنگٹن میں موجود امریکی فوجی ہیڈ کوارٹر پینٹاگون کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں امریکی سیکریٹری دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ امریکا اب دیکھے گا کہ پاکستان کس چیز کا انتخاب کرتا ہے۔اعلامیے کے مطابق جب نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ سے سوال کیا گیا کہ کیا افغان عمل میں پاکستان دوری اختیار کر سکتا ہے جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے بیان کردہ نئی حکمت عملی کو جس وجہ سے ہم خوش آئند کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ حکمت عملی خطے کی بڑی طاقتوں، پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے ہی فائدہ مند ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم خطے میں موجود تمام ممالک کو افغانستان میں افغان امن عمل میں حصہ دار بننے پر زور دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت بھی اس عمل میں باہمی نقطہ نظر کے ساتھ شامل ہوں۔نیٹو سربراہ نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ بھارت کو اس خطے کی حکمت عملی میں شامل کرنے سے مسائل پیدا ہوں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر بھارت کو افغان امن عمل میں شامل نہیں کیا جاتا تو یہ ایک بہت بڑی غلطی ہوگی۔پینٹاگون اعلامیے کے مطابق امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی خطے کے لیے نئی حکمت عملی پاکستان کے لیے انسداد دہشت گردی کی مہم میں شامل ہونے کا ایک بہترین موقع ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حکمت عملی میں خطے کے کسی بھی ملک کو الگ نہیں کیا جائے گا،

بلکہ اس میں ان تمام ریاستوں کو شامل کیا جائے گا جو خطے میں دہشت گردی کی روک تھام چاہتی ہیں اور معصوم لوگوں کا دفاع کرتی ہیں۔جیمز میٹس نے کہا کہ جہاں تک پاکستان کا سوال ہے تو امریکا دیکھے گا کہ پاکستان کس چیز کا انتخاب کرے گا۔امریکی سیکریٹری دفاع نے واضح کیا کہ امریکا، افغان حکومت، نیٹو افواج اور جنوبی ایشیائی ریاستوں کی حکومتوں کے ساتھ مل کر افغان عمل کے حوالے سے کام جاری رکھے گا اور یہ کوشش کی جائے گی کہ خطے میں موجود ریاستوں کو متحد کر کے طالبان، داعش اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف متحرک کیا جائے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے


میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…

آپ کی تھوڑی سی مہربانی

اسٹیوجابز کے نام سے آپ واقف ہیں ‘ دنیا میں جہاں…