پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

’’ہم ایٹمی معاہدہ توڑ دیں گےاور امریکہ کو۔۔‘‘ ایران کی امریکہ کو ابتک کی سب سے بڑی دھمکی

datetime 29  ستمبر‬‮  2017 |

نیویارک (آئی این پی)ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے ساتھ ہونے والے چھ ملکی ایٹمی معاہدے سے دست بردار ہوا تو ایران بھی ایسا ہی کرے گا اور امریکی خلاف ورزی کی صورت میں ایران کے پاس معاہدے سے دستبرداری اور دوسرے راستے موجود ہوں گے۔ جمعہ کو ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے قطری ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ سے نیویارک میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر واشنگٹن اس

معاہدے سے نکلنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ایران کے پاس معاہدے سے دستبرداری اور دوسرے راستے موجود ہوں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2015 میں ہونے والے اس معاہدے کے خلاف ہیں اور وہ اسے ‘شرمندگیاور ‘تاریخ کا بدترین معاہدہ قرار دیتے ہیں۔ جواد ظریف نے کہا کہ معاہدے کی پاسداری میں امریکہ کا فائدہ ہے۔اس سے قبل الجزیرہ نے ایک ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی تھی جس میں جواد ظریف کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ اگر واشنگٹن معاہدے سے دستبردار ہوا تو ایران بھی نکل جائے گا، بجائے اس کے کہ اس کے پاس معاہدے سے نکلنے کا راستہ موجود ہے۔ اس سے پہلے ایک ایرانی عہدے دار نے کہا تھا کہ جواد ظریف کی بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ٹرمپ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ یہ معاہدہ امریکہ کی سلامتی کے مفاد میں ہے یا نہیں۔ ان کے پاس اس کی تصدیق کے لیے اکتوبر تک کا وقت ہے کہ آیا ایران معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدے دار نے کہا کہ امریکہ ایران کے ہر بیان پر تبصرہ نہیں کرے گا۔ انھوں نے کہا: ‘ہم ایرانی دھمکیوں اور منفی حرکتوں سے مجموعی طور پر نمٹنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔ادھر امریکہ نے ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کی ایٹمی تنصیبات کے مزید معائنے کرے، اور خبردار کیا کہ ایسا کرنے میں ناکامی سے ایران کے ساتھ کیا گیا ایٹمی

معاہدہ ‘کھوکھلا وعدہ بن کر رہ جائے گا۔اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے کہا کہ بعض ملک ایران کو آئی اے ای اے کی جانب سے کیے جانے والے معاہدے سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے ملکوں کا نام نہیں لیا لیکن سفارتی ذرائع کے مطابق ان کا اشارہ روس کی جانب تھا۔ہیلی نے ایک بیان میں کہا کہ اگر ایران کے ایٹمی معاہدے کا کوئی معنی نکلتے ہیں تو فریقین کو اس کی شرائط کی مشترکہ تفہیم ہونی چاہیے۔ایرانی

حکام نے بارہا کہا ہے کہ وہ اس معاہدے کو پہلے نہیں توڑیں گے۔ اس کے تحت ایران نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام کو محدود کر دے گا جس کے عوض پر عائد بین الاقوامی پابندیاں ہٹا دی جائیں گی۔امریکہ کے بعض اتحادی معاہدے کے خاتمے کے امکان سے پریشان ہیں۔ گذشتہ ہفتے فرانسیسی صدر میکخواں نے کہا تھا کہ اس ایٹمی معاہدے کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔اگر ٹرمپ نے 16 اکتوبر تک معاہدے کی توثیق نہیں کی تو

کانگریس کے پاس اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے 60 دن ہوں گے کہ ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…