منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

پتھر نما بارودی سرنگیں جنگجوؤں کا نیاحربہ،انہیں بچھایا کیسے جاتا ہے؟حیران کن انکشافات

datetime 28  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں عام شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے کے لیے کوئی حربہ باقی نہیں چھوڑا ہے۔ سرکاری فوج اور مزاحمتی ملیشیا کے حملوں سے شکست کھانے کے بعد فرار سے قبل حوثی باغی آبادی والے علاقوں اور پبلک مقامات پر ایسی بارودی سرنگیں بچھاتے رہے ہیں، جن میں یہ فرق کرنا مشکل ہے کہ آیا وہ پتھر ہیں یا کوئی اور چیز ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق

یمنی حوثیوں نے شہریوں کی زندگیوں کو ایک نئے خطرے سے دوچار کرنے کے لیے فرار سے قبل کئی مقامات پر پتھر نما بارودی سرنگیں پھینک رکھی ہیں۔ اب تک ان سرنگوں سے ٹکرا کر کئی گاڑیاں تباہ اور متعدد شہری جاں بحق اور زخمی ہوچکے ہیں۔بہ ظاہر دیکھنے میں یہ بارودی سرنگیں عام پتھر معلوم ہوتی ہیں اور کوئی بھی ناواقف شخص ان پر پاؤں رکھنے کے ساتھ انہیں اٹھانے کی کوشش کرسکتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ پتھر نما بارودی سرنگیں زور دار دھماکے سے پھٹ جاتی ہیں جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہریوں کی جانوں کو نقصان پہنچ رہا ہےذرائع کا کہنا ہے کہ باب المندب کےساحلی علاقے جبل اخزان، المخا اور کئی دوسرے مقامات پر ایسی بارودی سرنگیں بڑی تعداد میں پائی گئی ہیں۔ روایتی بارودی سرنگوں کی نسبت ان کے بارےمیں کسی کو شک بھی نہیں ہوتا کہ یہ کوئی خطرناک شے ہے۔یہ بارودی سرنگیں حوثیوں کی اپنی تیار کردہ ہیں جو ابتدائی نوعیت کی ہیں۔ انہں عموما ان علاقوں میں پھینکا جاتا ہے جہاں سے حوثی شکست کے بعد فرار ہوجاتے ہیں۔ حوثیوں کے جنگی وسائل اور حربوں میں سمندر اور خشکی پر بارودی سرنگیں بچھانے کا حربہ بھی شامل ہے۔یمن کے وزیر برائے انسانی حقوق محمد عسکر نے حال ہی میں بتایا تھا کہ حوثیوں نے آبادیوں کے اندر اور مصروف راستوں پر نصف ملین کے قریب بارودی سرنگیں بچھا رکھیں۔ ان بارودی سرنگوں کے پھٹنے سے اب تک 850 یمنی شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…