جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی چوروں کا گروہ سعودی پولیس کے ہتھے چڑھ گیا تلاشی پر کیا چیزیں برآمد ہوئیں؟سنسنی خیز انکشافات

datetime 27  ستمبر‬‮  2017 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب میں ریاض صوبے کی پولیس نے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث پاکستانی باشندوں کا ایک گروہ پکڑ لینے کا انکشاف کیا ہے۔ گروہ کے افراد نے سکیورٹی اہل کار بن کر اپنے ہتھے چڑھنے والے ہر شخص کو مار پیٹ اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ اس گروہ نے چوری کی 45 وارداتیں بھی کیں اور ان کارروائیوں سے حاصل اشیاء کو آپس میں تقسیم

کر لیا جن کی مالیت ایک لاکھ ریال سے زیادہ بنتی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ریاض صوبے کی پولیس کے میڈیا ترجمان نے بتایاکہ کچھ عرصہ قبل دارالحکومت کے علاقے منفوحہ کے پولیس اسٹیشن پر دو پاکستانی مقیمین نے اطلاع دی کہ انہیں سکیورٹی اہل کار کے روپ میں نامعلوم افراد نے حراست میں رکھا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ اسلحے کے زور پر دونوں پاکستانیوں کے پاس موجود 10250 ریال اور 5000 ریال مالیت کے موبائل ریچارج کارڈ بھی چھین لیے۔ یہ کارڈ اْس شاپنگ اسٹور کے تھے جہاں مذکورہ دونوں پاکستانی کام کرتے ہیں۔ بعد ازاں دیگر متعدد غیر ملکی مقیمین کی جانب سے یہ اطلاع دی گئی کہ انہیں بھی نامعلوم افراد نے اسلحے کے زور پر مار پیٹ اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان اطلاعات میں بتائی گئی تفصیلات پہلی اطلاع کے طریقہ کار سے ملتی جلتی تھیں۔ منظم حکمت عملی مرتب کر کے گھات لگا کر ان نامعلوم افراد کو گرفتار کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ پانچ افراد پر مشتمل گروہ ہے اور تمام افراد پاکستانی شہریت رکھتے ہیں۔ ان افراد کے قبضے سے نشہ آور حشیش ، وائرلیس سیٹ ، 22 موبائل فونز ، تشدد کے لیے استعمال کیے جانے والے دو کوڑے ، 6861 سعودی ریال برآمد کر لیے گئے۔ تحقیقات کے دوران گروہ کے

تمام ارکان نے اپنی جانب منسوب مجرمانہ کارروائیوں کا اعتراف کر لیا اور بتایا کہ وہ سکیورٹی اہل کاروں کے رْوپ میں پلاسٹک کے جعلی ہتھیاروں کے ذریعے لوگوں کو قابو کرتے تھے۔گروہ کے ارکان نے چوری کی 45 وارداتوں کے ارتکاب کا بھی اعتراف کیا۔ گروہ کے ارکان کو پہلی اطلاع دینے والے متاثرین کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے فوری طور پر مجرموں کو پہچان لیا۔ تمام

افراد کو قانونی کارروائی کے لیے عدالت میں پیش کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…