پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

بوکھلاہٹ کے شکار امریکہ کو آگ سے جواب دیں گے،شمالی کوریا

datetime 22  ستمبر‬‮  2017 |

پانگ یانگ(این این آئی)شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اْن نے کہا ہے کہ ’بوکھلاہت کے شکار‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد انھیں یقین ہو گیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے لیے ہتھیار بنانے کے معاملے میں صحیح ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سرکاری میڈیا کے ذریعے ایک غیر معمولی بیان میں شمالی کوریا کے رہنما نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو اقوام متحدہ میں اپنے حالیہ خطاب پر ‘بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی صدر کے بیان کے بعد مجھے یقین ہو گیا ہے کہ میں نے خوفزدہ یا رکنے کی بجائے، جو راستہ منتخب کیا وہ درست ہے اور اسی پر چلنا ہے۔‘انھوں نے کہاکہ ٹرمپ نے پوری دنیا کے سامنے میری اور میرے ملک کی توہین کرتے ہوئے جنگ کی تاریخ کا سفاک ترین اعلامیہ جاری کیا ہے اور اس کے لیے امریکہ کو قیمت چکانا پڑے گی۔کم جونگ ان نے اپنی تقریر کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں یقیناً ذہنی طور پر بوکھلاہٹ کا شکار اور احمق امریکہ کو آگ سے جواب دوں گا۔انھوں نے کہا: ‘ٹرمپ نے پوری دنیا کے سامنے میری اور میرے ملک کی توہین کرتے ہوئے جنگ کی تاریخ کا سفاک ترین اعلامیہ جاری کیا ہے اور اس کے لیے امریکہ کو قیمت چکانا پڑے گی۔کم جونگ ان نے اپنی تقریر کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں یقیناً ذہنی طور پر بوکھلاہٹ کا شکار اور احمق امریکہ کو آگ سے جواب دوں گا۔خیال رہے کہ منگل کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا نے اسے( امریکہ) کو اپنے دفاع پر مجبور کیا تو امریکہ اسے تباہ کر دے گا۔صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ ‘راکٹ مین خود کش مشن پر ہے۔

امریکی صدر کے اس بیان کے بعد شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ کہاوت ہے نا کہ کتے بھونکتے رہتے ہیں مگر قافلے چلتے رہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی صدر کا خیال ہے کہ ‘وہ ہمیں بھونکتے ہوئے کتے کی آواز سے پریشان کر سکتے ہیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…