جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

بوکھلاہٹ کے شکار امریکہ کو آگ سے جواب دیں گے،شمالی کوریا

datetime 22  ستمبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پانگ یانگ(این این آئی)شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اْن نے کہا ہے کہ ’بوکھلاہت کے شکار‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد انھیں یقین ہو گیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے لیے ہتھیار بنانے کے معاملے میں صحیح ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سرکاری میڈیا کے ذریعے ایک غیر معمولی بیان میں شمالی کوریا کے رہنما نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو اقوام متحدہ میں اپنے حالیہ خطاب پر ‘بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی صدر کے بیان کے بعد مجھے یقین ہو گیا ہے کہ میں نے خوفزدہ یا رکنے کی بجائے، جو راستہ منتخب کیا وہ درست ہے اور اسی پر چلنا ہے۔‘انھوں نے کہاکہ ٹرمپ نے پوری دنیا کے سامنے میری اور میرے ملک کی توہین کرتے ہوئے جنگ کی تاریخ کا سفاک ترین اعلامیہ جاری کیا ہے اور اس کے لیے امریکہ کو قیمت چکانا پڑے گی۔کم جونگ ان نے اپنی تقریر کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں یقیناً ذہنی طور پر بوکھلاہٹ کا شکار اور احمق امریکہ کو آگ سے جواب دوں گا۔انھوں نے کہا: ‘ٹرمپ نے پوری دنیا کے سامنے میری اور میرے ملک کی توہین کرتے ہوئے جنگ کی تاریخ کا سفاک ترین اعلامیہ جاری کیا ہے اور اس کے لیے امریکہ کو قیمت چکانا پڑے گی۔کم جونگ ان نے اپنی تقریر کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں یقیناً ذہنی طور پر بوکھلاہٹ کا شکار اور احمق امریکہ کو آگ سے جواب دوں گا۔خیال رہے کہ منگل کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا نے اسے( امریکہ) کو اپنے دفاع پر مجبور کیا تو امریکہ اسے تباہ کر دے گا۔صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ ‘راکٹ مین خود کش مشن پر ہے۔

امریکی صدر کے اس بیان کے بعد شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ کہاوت ہے نا کہ کتے بھونکتے رہتے ہیں مگر قافلے چلتے رہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی صدر کا خیال ہے کہ ‘وہ ہمیں بھونکتے ہوئے کتے کی آواز سے پریشان کر سکتے ہیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…