پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کے شرم دلانے پر آخرکار ٹرمپ میں انسانیت جاگ ہی گئی

datetime 21  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کے شرم دلانے پر امریکہ کو روہنگیا مسلمانوں کا خیال آگیا، بنگلہ دیش میں پناہ گزین روہنگیا مسلمانوں کی امداد کے لیے 3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر امداد کا اعلان۔ تفصیلات کے مطابق امریکی دفترخارجہ نے بنگلہ دیش میں پناہ گزین روہنگیا مسلمانوں کی امداد کے لیے 3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی رقم فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

میانمار کی ریاست رخائن میں مقیم روہنگیا مسلمانوں پر میانمار کے ریاستی ظلم و ستم کے بعد یہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اب تک کا سب سے بڑا قدم ہے۔امریکی امدادی رقم روہنگیا پناہ گزینیوں کے لیے کھانے، دوا، پانی، صحت و صفائی اور خیموں کی صورت میں خرچ کی جائے گی۔واضح رہے کہ بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران ملاقات کے دوران جب امریکی صدر نے بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد سے بنگلہ دیش بارے دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ باقی سب ٹھیک ہے مگر اس وقت ہمیں روہنگیا مسلمانوں کی میانمار سے ہجرت کر کے بنگلہ دیش آمد کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آگے کی جانب بڑھ گئے ۔ ایک عرب ٹی وی کوانٹرویو کے دوران جب بنگلہ دیشی وزیراعظم سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جنرل اسمبلی اجلاس میں ملاقات کے حوالے سے سوال کیا گیا کہ آپ نے انہیں روہنگیا مسلمانوں کی امداد بارے کیوں نہیں کہا تو بنگلہ دیشی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں کیوں کہوں، کیا دنیا بھر اور امریکہ کو نظر نہیں آتا کہ روہنگیا مسلمان کس حالت میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں روہنگیا مسلمانوں کی آمد سے کوئی مسئلہ نہیں ، ہم غریب ملک ہیں مگر ہم ان کے ساتھ بانٹ کر کھارہے ہیں،

ہمارے لوگ روہنگیا مسلمانوں کی مدد کر رہے ہیں ۔ ہماری آبادی 16کروڑ ہے چند لاکھ روہنگیا ہمارے ساتھ شامل ہو گئے تو ہم پر قیامت نہیں ٹوٹ پڑے گی مگر عالمی برادری بالخصوص امریکہ کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں جنہیں انہیں ادا کرنا ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…