ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

یمنی باغی ہٹ دھرمی ترک کرکے امن مساعی میں مدد کریں،برطانیہ

datetime 12  ستمبر‬‮  2017 |

صنعاء(این این آئی)یمن میں تعینات برطانوی سفیر نے کہا ہے کہ یمن کے بحران کا حل صرف بات چیت میں مضمر ہے۔ اس مسئلے کو فوجی طاقت سے حل نہیں کیا جاسکتا۔عرب ٹی وی کے مطابق ایک بیان میں انہوں نے یمنی باغیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہٹ دھرمی ترک کرتے ہوئے بات چیت کی میز پر آئیں اور اقوام متحدہ کے امن مندوب ولد الشیخ احمد کے امن مشن میں ان کے ساتھ تعاون کریں۔ برطانوی سفیر سائمن شیر کلف نے

اپنے ایک بیان میں کہا کہ یمن کی موجودہ صورت حال مبہم اور غیر واضح ہے۔ یہ مسئلہ صرف بات چیت سے حل ہوسکتا ہے۔ لہٰذا میں تمام متحارب فریقین سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ لڑائی بند کرکے اختلافات کو مذاکرات کی میز پرحل کریں اور الحدیدہ بندرگاہ کو اقوام متحدہ کی زیرنگرانی دینے کی تجویز قبول کریں۔شیر کلف نے کہا کہ الحدیدہ بندرگاہ کا کنٹرول اقوام متحدہ کے حوالے کرنے سے یمن میں جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوگی۔ العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق صنعا میں قائم ایران نواز حوثی گروپ کی غیرآئینی انتظامیہ اس وقت سخت عالمی دباؤ میں ہے۔برطانوی سفیر نے بھی باغیوں پر ہٹ دھرمی ترک کرکے پرامن بات چیت کا آغاز کرنے پر زور دیا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ صنعاء میں حوثی اور علی صالح بھی آپس میں ایک دوسرے سے الجھ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر علی صالح ملیشیا اور حوثیوں نے ایک دوسرے کے خلاف حملے شروع کردیے تو اس کے نتیجے میں حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ اس لیے صورت حال کو مزید ابتر ہونے سے پہلے فریقین امن اقدامات کریں تاکہ کسی بڑے بحران سے بچا جاسکے۔سائمن شیر کلف نے حوثیوں پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی ولد الشیخ احمد کے مشن میں ان کے ساتھ تعاون کریں۔ مذاکرات کی میز پرآئیں اور بات چیت کے ذریعے تمام تنازعات حل کریں۔انہوں نے یمن میں موجودہ

انسانی بحران کی ذمہ داری یمنی باغیوں پر عاید کی اور کہا کہ الحدیدہ بندرگاہ کو کو اقوام متحدہ کے کنٹرول میں دینے سے جنگ اور انسانی بحران کے خاتمے کے راہ ہموار ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…