جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

پاکستان کو سنگین دھمکیاں دینے والے اعلیٰ امریکی عہدیدار جان مکین خطرناک قسم کے کینسر میں مبتلا

datetime 11  ستمبر‬‮  2017 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی سنیٹر جان مکین نے،جن کی حال ہی میں دماغ کے سرطان کی سرجری کی گئی تھی کہا ہے کہ یہ بیماری انتہائی خطرناک ہے تاہم علاج مناسب انداز میں جاری ہے اور وہ پہلے سے زیادہ توانائی محسوس کر رہے ہیں۔میڈیاروپرٹس کے مطابق اْنہوں نے کہا کہ یہ بہت ہی خطرناک قسم کا کینسر ہے جس کا اْنہیں سامنا ہے۔ سنیٹر مکین کا تعلق رپبلکن پارٹی سے ہے اور اْنہوں نے 2008میں صدارتی انتخاب

میں بھی حصہ لیا تھا لیکن اْنہیں اس انتخاب میں سابق صدر اوباما کے ہاتھوں شکست ہو گئی تھی۔ایریزونا سے تعلق رکھنے والے 80 سالہ سنیٹر مکین بہت شدید نوعیت کی دماغی رسولی میں مبتلا ہو گئے تھے جسے گلائیوبلاسٹوما کہا جاتا ہے۔ گذشتہ جولائی میں سرجری کے ذریعے اْن کی بائیں آنکھ کے اوپر موجود رسولی کو نکال دیا گیا تھا۔مکین کا کہنا تھا کہ اب تک سامنے آنے والے نتائج بہت اچھے ہیں۔ اْنہوں نے کہا کہ اس بیماری کے کوئی مزید منفی اثرات نہیں ہیں اور وہ پہلے کی نسبت بہت توانا محسوس کر رہے ہیں۔حال ہی میں مکین کی کیموتھیرپی کا پہلا دور مکمل ہو گیا ہے ،مکین سنیٹ کی مسلح افواج کی کمیٹی کے چیئرمین ہیں اور وہ اگلے ہفتے دفاعی پالیسی کے بل سے متعلق کام کی بھی نگرانی کریں گے۔اْنہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ہر زندگی کو کبھی نہ کبھی ختم ہونا ہوتا ہے۔ وہ اپنی زندگی سے بہت مطمئن اور خوش ہیں۔ اْنہوں نے کہا کہ وہ ایک ایسے شخص ہیں جنہوں نے نیول اکادمی کی کلاس میں پانچویں پوزیشن سے آگے بڑھنے کا سفر شروع کیا تھا اور وہ اپنی کامیابیوں پر خوشی محسوس کرتے ہیں۔جان مکین گزشتہ نومبر میں چھٹی بار سنیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ اس سے قبل اْن کا جلد کے سرطان میلا نوما کا علاج ہو چکا ہے۔اْن کے والد اور دادا دونوں بحری فوج میں ایڈمرل رہ چکے ہیں۔ وہ خود امریکی بحریہ کے پائلٹ تھے اور اْن کا جہاز 1967 میں ویت نام

میں مار گرایا گیا تھا۔ ویت نام میں قید کے دوران اْنہیں بہت اذیتیں دی گئی تھیں۔مکین نے س اْمید کا اظہار کیا کہ لوگ اْنہیں ایک ایسے فرد کی حیثیت سے یاد رکھیں گے جس نے اس ملک کی خدمت کی ہے۔ اْنہوں نے کہا کہ اْن سے بہت سی غلطیاں سرزد ہوئیں لیکن اْنہوں نے ملک کی عزت کے ساتھ بھرپور خدمت کی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…