جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

ترکی کا برما کے روہنگیا مسلمانوں کے اخراجات اٹھانے کا اعلان

datetime 6  ستمبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

انطالیہ(این این آئی) ترکی نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتیوں کی مذمت کرتے ہوئے بنگلا دیش سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے لیے اپنی سرحد کھولے جو بھی اخراجات ہوں گے وہ ترکی ادا کرے گا۔ترک وزیر خارجہ میولود چاوش اوغلو نے ترکی کے صوبے انطالیہ میں عید الاضحیٰ کے موقع پر حکمراں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب میں کہا کہ میانمار کی

ریاست راکھین میں پرتشدد فسادات سے جان بچا کر نقل مکانی کرنے والے مہاجرین کے لیے بنگلا دیشی حکومت اپنے دروازے کھولے اور اخراجات کی فکر نہ کرے، مہاجرین پر جتنے بھی پیسے خرچ ہوں گے وہ ترکی برداشت کرے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ترکی نے روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے پر اسلامی تعاون تنظیم کا اجلاس طلب کرنے کی بھی درخواست کی ہے اور رواں برس اس سلسلے میں اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ چاوش اوغلو نے کہا کہ ہمیں روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے کا فیصلہ کن اور مستقل حل ڈھونڈنا ہو گا۔انہوں نے عالم اسلام سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کے علاوہ کوئی بھی اسلامی ملک میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام کے معاملے پر رد عمل ظاہر نہیں کر رہا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ترکی دکھی انسانیت کی مدد کرنے میں امریکا کے بعد سب سے آگے ہے اور امداد کی مد میں ترکی اب تک 6 ارب ڈالر خرچ کرچکا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں امریکا نے 6.3 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔خیال رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردگان بھی روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے پر عالم اسلام کے اہم رہنماؤں سے رابطے میں ہیں اور ان سے اس مسئلے کے حل کی کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ترک صدر عید الاضحیٰ کے موقع پر 13 سربراہان مملکت سے گفتگو کر چکے ہیں اور انہیں راکھین کی صورتحال سے آگاہ کر چکے ہیں۔اس کے علاوہ ترک

وزیر خارجہ چاوش اوغلو خود بھی اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل اور ریاست راکھین ایڈوائزری کمیشن کے سربراہ کوفی عنان سے ٹیلی فون پر رابطہ کر چکے ہیں۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بدھ مت انتہاپسندوں کے ظلم و ستم اور حالیہ پرتشدد کارروائیوں سے تنگ 50 ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان میانمار سے ہجرت کر کے بنگلا دیش چلے گئے ہیں جب کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن کلئیرنس کے بہانے 400 سے زائد مسلمانوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…