اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

روہنگیا مسلمانوں پر تشدد، انڈونیشیا کے صبر کا پیمانہ لبریز،بڑا قدم اُٹھالیا،جکارتہ میں میانمار کے سفارتخانے کا گھیراؤ

datetime 5  ستمبر‬‮  2017 |

ینگون (آئی این پی )انڈونیشیا کے وزیر خارجہ رٹنو مارسوڈی برما کی لیڈر آنگ سان سوچی اور ملک کے فوجی کمانڈر اور قومی سلامتی کے مشیر کیساتھ ملاقاتوں اور راکھین ریاست میں جاری بحران پر گفتگو کیلئے میانمار پہنچ گئے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کے حق میں مظاہرے کے لیے سیکڑوں مظاہرین کئی روز سے جکارتا میں میانمار کے سفارت خانے کے سامنے موجود ہیں۔

وہ انڈو نیشیا کی حکومت پر پناہ گزینوں کو قبول کرنے پر زور دے رہے ہیں۔انڈونیشیاکے صدر جوکو ویڈوڈو نے کہا ہے کہ میں اور انڈونیشیا کے عوام، ہم اس تشدد کی مذمت کرتے ہیں جو میانمار کی ریاست راکھین میں ہوا۔ اس سلسلے میں محض تنقید کی نہیں بلکہ حقیقی اقدام کی ضرورت ہے۔ حکومت انڈونیشیا کی سول سوسائٹی اور بین الاقوامی برادری کے تعاون سے انسانی ہمدردی کے بحران کیحل میں مدد دینے سے وابستہ ہے۔انڈونیشیا کے صدر کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے وزیر خارجہ سے کہہ دیا ہے کہ وہ راکھین ریاست کے بحران کے بارے میں میانمار کی حکومت اور بین الاقوامی عہدے داروں سے گفت و شنید کریں۔ان کا کہنا ہے کہ میں نے وزیر خارجہ کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹریس ،روہنگیا ریاست کے لئیخصوصی ایڈوائزری کمیشن، کوفی عنان،سمیت مختلف فریقوں سے بات چیت کرنے کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ ہمارے وزیر خارجہ میانمر حکومت سے تشدد بند کرنے اور مزید تشدد روکنے کے ساتھ ساتھ میانمر کے مسلمانوں سمیت تمام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے اور انسانی ہمدردی کی امداد تک رسائی فراہم کرنے کی درخواست کریں گے۔میانمر کے بعدانڈونیشیا کے وزیر خارجہ اپنی جانیں بچا کر فرار ہونے والے لوگوں کے لیے انسانی ہمدردی کی امداد کی تیاری کے لیے بنگلہ دیش جائیں گے۔اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے مور سے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ راکھین میں گزشتہ ماہ پھوٹنے والے تشدد کے بعد سے 87000 روہنگیا باشندے جان بچا کر پڑوسی ملک بنگلہ دیش جا چکے ہیں۔

اس ریلے کے نتیجے میں امدادی ادارے رسدوں اور طبی دیکھ بھال کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…