ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا کی واحد کرنسی جس کا ایک روپیہ ۔۔تین لاکھ اٹھاون ہزار پاکستانی روپے کے برابر ہے،حیرت انگیزانکشافات

datetime 8  اگست‬‮  2017 |

لندن(آئی این پی) ورچوئل کرنسی بٹ کوائن نے پہلی بار تین ہزار ڈالرز کی حد کو عبور کرلیا اور اسکے ایک سکے کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ۔اس وقت دنیائے انٹرنیٹ کی اس کرنسی کے ایک یونٹ یا یوں کہہ لیں کہ ایک روپے کی قیمت 3398 ڈالرز( 3 لاکھ 58 ہزار روپے سے زائد) پر پہنچ چکی ہے۔یعنی ایک بٹ کوائن سے ساڑھے ساتھ تولے تک سونا خریدا جاسکتا ہے۔

اس کرنسی میں یہ نمایاں اضافہ اس وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ سال اسے دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا تھا اور دوسری کرنسی کو بٹ کوائن کیش کا نام دیا گیا۔یہ نئی کرنسی اس وقت 223 ڈالرز میں فروخت کی جارہی ہے جس کی مارکیٹ ویلیو پانچ ارب ڈالرز ہے جبکہ بٹ کوائن کی مارکیٹ ویلیو 55 ارب ڈالرز سے تجاوز کرچکی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت گزشتہ سال مئی میں صرف 443 ڈالرز تھی اور ایک سال میں اتنا اضافہ حیران کن ہے۔یہ بٹ کوائن کے لیے ایک سنگ میل ہے کیونکہ اسے ڈیجیٹل گولڈ بھی قرار دیا جاتا ہے۔کسی حقیقی کرنسی کے مقابلے میں بٹ کوائنز ہر طرح کے ضابطوں یا حکومتی کنٹرول سے آزاد ہے اور اس کا استعمال بہت آسان ہے۔اس وقت اسے متعدد ممالک جیسے کینیڈا، چین اور امریکا وغیرہ میں استعمال کیا جارہا ہے تاہم دنیا میں انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والا ہر شخص اس کرنسی کو خرید سکتا ہے۔اس کرنسی کی لین دین کے لیے صارف کا لازمی طور پر بٹ کوائن والٹ اکانٹ ہونا چاہئے جسے بٹ کوائن والٹ اپلیکشن ڈان لوڈ کرکے بنایا جاسکتا ہے۔ والٹ اکانٹس کو پے پال، کریڈٹ کارڈز یا بینک اکانٹس وغیرہ کے ذریعے بٹ کوائنز خریدنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مائیکروسافٹ سمیت انٹرنیٹ پر کام کرنے والی سینکڑوں کمپنیاں بٹ کوائنز کو قبول کرتی ہیں، جن میں سوشل گیمنگ سائٹس جیسے زینگا، بلاگ ہوسٹنگ ویب سائٹس جیسے ورڈ پریس اور آن لائن اسٹورز جیسے ریڈیٹ اور اوور اسٹاک ڈاٹ کام وغیرہ قابل ذکر ہیں۔اس وقت دنیا بھر میں لاکھوں بٹ کوائن گردش کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…