جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت نے کینسر کی پاکستانی مریضہ کے بھارت میں علاج کو کلبھوشن یادیو کے معاملے سے جوڑ دیا،بھارتی وزیرخارجہ کاسرتاج عزیز پر گہرا طنز

datetime 10  جولائی  2017 |

لاہور/نئی دہلی ( این این آئی)کینسر کی پاکستانی مریضہ فائزہ تنویر کے بھارت میں علاج کی امید جاگ اٹھی ،بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کی سفارش کی صورت میں پاکستانی مریضہ کو ویزہ جاری کرنے کا عندیہ دیدیا ۔گزشتہ ہفتے بھارتی سفارت خانے نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کینسر کے مرض میں مبتلا مریضہ فائزہ تنویر کو ویزہ دینے سے انکار کردیا تھا۔

لاہور کے علاقے مزنگ کی رہائشی فائزہ کو منہ کا ٹیومر ہے اور بھارت کے اندر پراشتھا ڈینٹل کالج اینڈ ہسپتال غازی آباد نے 10 لاکھ وصول کرکے پاکستانی مریضہ کو بھارت علاج کے لیے بلوایا تھا۔تاہم بھارتی سفارت خانے کی جانب سے ویزہ دینے سے انکار پر فائزہ تنویر نے پاک-بھارت سیاستدانوں اور رفاہی اداروں سے اپیل کی تھی کہ وہ انہیں علاج کے لیے ویزہ حاصل کرنے میں مدد فراہم کریں۔جس کے بعد بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغامات کے سلسلے میں کہا کہ انہیں علاج کی غرض سے بھارت کے ویزہ کے حصول کی خواہشمند پاکستانی شہری سے ہمدردی ہے۔مجھے یقین ہے کہ سرتاج عزیز بھی اپنے ملک کے شہریوں کے بارے میں سوچتے ہیں اور مجھے سمجھ نہیں آتا کہ وہ اپنے ملک کے شہریوں کے بارے میں سفارش کرنے سے کیوں ہچکچا رہے ہیں؟۔بعدازاں سشما سوراج نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی والدہ ایوانتیکا یادیو کی ویزہ درخواست کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ درخواست پاکستان میں تعطل کا شکار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سرتاج عزیز نے اس خط پر بھی کوئی جواب نہیں دیا جو انہوں نے ذاتی طور پر انھیں لکھا تھا جس میں ایوانتیکا یادیو کی ویزہ درخواست کو منظور کرنے کی استدعا کی گئی تھی تاکہ وہ اپنے بیٹے سے ملاقات کرسکیں۔

آخر میں سشما سوراج نے کہا کہ میں یقین دلاتی ہوں کہ سرتاج عزیز کی سفارش پر پاکستانی شہری کو فوری طور پر طبی ویزہ جاری کردیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…