پیر‬‮ ، 23 مارچ‬‮ 2026 

پاکستان اور افغانستان کا دورہ کرنے والے امریکی سینیٹرز افغان جنگ پر اختلافات کا شکار ہوگئے ،حیرت انگیزانکشافات

datetime 9  جولائی  2017 |

واشنگٹن(آئی این پی) پاکستان اور افغانستان کا گذشتہ ہفتے دورہ کرنے والے اہم امریکی سینیٹرز افغان جنگ پر اختلافات کا شکار ہوگئے ، کچھ کا ماننا ہے کہ مذاکرات سے قبل فوجی فتح ضروری ہے جبکہ دیگر اس مسئلے کا سیاسی حل چاہتے ہیں۔تاہم امریکی میڈیا میں شائع ہونے والے بیان میں ایک خطرے کی نشاندہی کی گئی ہے جس کے مطابق پاکستان کو طالبان پر مزید دبا ؤ ڈالنا ہوگا تاکہ وہ سیاسی حل کو قبول کریں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاکستان اور افغانستان کا حالیہ دورہ کرنے والے امریکی سینیٹرز کے وفد کی قیادت کرنے والے سینیٹر جان میک کین کا کہنا تھا کہ دورے سے انہیں معلوم ہوا ہے کہ افغان جنگ میں کامیابی کے لیے امریکا کو نئی حکمت عملی پر عمل کرنا ہوگا تاکہ دنیا کی ایک انتہائی طاقت ور ترین قوم اس کشیدگی میں کامیاب ہوسکے۔تاہم مذکورہ وفد میں شامل دو ڈیموکریٹس میں سے ایک سینیٹر ایلزبتھ وارن نے اس معاملے کے سیاسی حل پر توجہ مرکوز کرنے پر زور دیا اور ٹرمپ انتظامیہ پر جنگ میں کامیابی کے لیے سیاسی مذاکرات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا، ساتھ ہی انہوں نے پاکستان پر مزید اقدامات کے لیے بھی زور دیا۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا کہ تاہم انہوں نے مثبت اقدامات کیے ہیں، ہم نے پاکستانی قیادت کو کہا ہے کہ وہ خطے میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے مزید اقدامات کریں۔مذکورہ دورے کے دوران امریکی وفد نے پاکستان، افغانستان اور نیٹو کے حکام سے ملاقاتیں کی تھیں اور اس حوالے سے انہوں نے دورے کے مشاہدات کو ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ شیئر کرنا تھا، اس وفد نے جنوبی وزیرستان کا دورہ بھی کیا تھا۔امریکا کے آئندہ انتخابات میں صدر کے لیے امیداوار تصور کی جانے والی سینیٹر وارن نے گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں اپنے دورے کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار پر بات چیت کی۔

انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ میں نے پاکستانی آرمی چیف سے ملاقات کی، جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ خطے میں پاکستان کے اہم کردار کے حوالے سے بات چیت کی۔ انہوں نے امریکی وفد کے ساتھ 3 جولائی کو جنوبی وزیرستان کے دورے پر بات کی۔ان کا کہنا تھا کہ جنوبی وزیرستان میں آرمی اور مقامی رہنماں نے ہمیں دکھایا کہ کیسے یو ایس ایڈ ڈویلپمنٹ پروجیکٹس کے ذریعے لوگوں کا معیار زندگی تبدیل کیا جارہا ہے۔

سینیٹر میک کین نے گذشتہ ہفتے کابل دورے کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہا تھا کہ اگر حقانی نیٹ ورک کی حمایت سے پاکستان دست بردار نہیں ہوتا تو امریکا اس سے تعلقات پر نظر ثانی کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ادھر ریپبلکن کے صدارتی امیدوار سینیٹر لینڈسے نے بھی جان میک کین کے اس مطالبے کی حمایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد میں کمی کی پرانی حکمت عملی کام نہیں کررہی کیونکہ اس سے طالبان کو کوشکست دینے پر توجہ مرکوز نہیں ہوتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…