اتوار‬‮ ، 22 مارچ‬‮ 2026 

عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں میں کمی، پاکستان اور بھارت اضافہ کررہے ہیں،رپورٹ

datetime 6  جولائی  2017 |

اسٹاک ہوم(آئی این پی )اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے کہا ہے کہ اگرچہ گزشتہ سال کے مقابلے میں عالمی سطح پر 2017 میں جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں کمی آئی ہے، تاہم پاکستان اور بھارت اپنی جوہری ہتھیاروں کی تعداد اور اس کی پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔

غیر ملکی میڈیاکے مطابق ادارے کی ٹرینڈ این دی ورلڈ نیوکلیئر فورسز2017کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا ہے کہ جس رفتار سے دونوں ممالک جوہری ہتھیاروں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کر رہے ہیں اس کے مطابق کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں آئندہ دس سال تک اضافہ ہوتا رہے گا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ 2017 میں عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کی تعداد کم ہو کر 14 ہزار 935 ہوگئی جو سال 2016 کے اوائل میں 15 ہزار 395 تھی۔رواں سال کے آغاز میں امریکا، روس، برطانیہ، فرانس، چین، بھارت، پاکستان، اسرائیل اور عوامی جمہوریہ کوریا کے پاس عملی طور پر تعینات جوہری ہتھیاروں کی تعداد تقریبا 4 ہزار 150 تھی۔اس وقت روس کے پاس سب سے زیادہ 7 ہزار نیوکلیئر وار ہیڈز ہیں جس کے بعد امریکا کے پاس ان کی تعداد 6 ہزار 800 ہے۔رپورٹ میں دعوی کیا گیا کہ دونوں ممالک نے پچھلی دہائی کے مقابلے میں اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں کمی کی ہے، البتہ کمی کی یہ رفتار کم ہے۔ان دونوں ممالک کے مقابلے میں دیگر ممالک کے پاس جوہری ہتھیاروں کی تعداد نسبتا کم ہے، تاہم یہ ممالک یا تو اپنے ہتھیار تعینات کرچکے ہیں یا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔مثال کے طور پر پاکستان اور بھارت دونوں ممالک نئے زمینی، بحری اور فضائی میزائل ڈیلوری سسٹم بنانے پر کام کر رہے ہیں۔

سِپری کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2017 تک پاکستان کے پاس جوہری وار ہیڈز کی تعداد تقریبا 140 تھی، جس سے اس میں اضافہ ظاہر ہوتا ہے کیونکہ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے 2016 کے ڈیٹا میں یہ تعداد 120 سے 130 تھی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان، خوشاب پنجاب میں اپنے اہم پلوٹونیم پروڈکشن کمپلیکس میں توسیع کر رہا ہے، جو چار آپریشنل ہیوی واٹر نیوکلیئر ری ایکٹرز اور ایک ہیوی واٹر پروڈکشن پلانٹ پر مشتمل ہے،

جبکہ وہ دوسری سائٹ پر ایک نیا ری پروسیسِنگ پلانٹ بھی تعمیر کر رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ رواں سال کے اوائل میں بھارت کے پاس نیوکلیئر ہتھیاروں کی تعداد 130 تک تھی، جو 2016 میں 110 سے 120 تک تھی۔بھارت اعتدال پسندی سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے سائز اور نیوکلیئر وار ہیڈز کی پیداوار کے لیے انفراسٹرکچر میں توسیع کر رہا ہے۔

بھارت چھ تیز رفتار بریڈر ری ایکٹرز بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے جن سے ہتھیاروں کے لیے پلوٹونیم کی پیداوار کی صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔رپورٹ میں یہ دعوی بھی کیا گیا کہ بھارت اپنی یورینیم افزودگی کی صلاحیتوں میں توسیع اور ساتھ ہی غیر محفوظ گیس سینٹری فیوج فیسیلٹی تعمیر کرنے کا بھی منصوبہ رکھتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…