بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

ہم غریب ،حکومت ہمیں راشن دیتی ہے ؟مودی حکومت نے اپنے ہی عوام کوبے وقوف بنانے کےلئے نیاکھیل شروع کردیا

datetime 22  جون‬‮  2017 |

نئی دلی (نیوز ڈیسک) ریاست راجستھان کے ضلع دوسہ میں مقامی انتظامیہ نے سینکڑوں غریب گھروں کی دیواروں پر یہ الفاظ لکھو ا دیئے ہیں ”ہم غریب ہیں۔ ہمیں حکومت کی جانب سے امدادی رشن ملتا ہے۔“ ویب سائٹ ڈی این اے کی رپورٹ کے مطابق رپورٹ کے مطابق سکرائی اور بندی کوئی تحصیلوں میں 50ہزار سے زائد گھروں کی دیواروں پر یہ الفاظ لکھے دیکھے جا سکتے ہیں۔

ان گھروں میں رہنے والے غریبوں کا کہنا ہے کہ وہ غربت کا درد تو پہلے ہی سہہ رہے تھے لیکن حکومت نے جس طرح انہیں ذلیل کیا ہے یہ دکھ ان کیلئے ناقابل برداشت ہے۔مقامی انتظامیہ نے یہ الفاظ ان گھروں پر لکھوائے ہیں جنہیں ہر ماہ حکومت کی جانب سے ارزاں نرخوں پر کھانے کی اشیاءفراہم کی جاتی ہیں۔ نیشنل فوڈ سکیورٹی ایکٹ کے تحت غریب گھرانوں کو ہر ماہ پانچ کلوگرام اناج فی کس سستے داموں دیا جاتا ہے۔ پہلے تو سستا راشن خاموشی سے دیا جارہا تھا لیکن حال ہی میں حکومتی اہلکاروں نے سستا راشن لینے والے تمام گھروں کی دیواروں پر لکھوادیا ہے کہ وہ غریب لوگ ہیں اور حکومت سے امدادی راشن لیتے ہیں۔ اس گھٹیا مذاق کا نشانہ بننے والے لوگوں نے اس بات پر سخت احتجاج کیا ہے جس کے جواب میں حکومتی اہلکاروں انہیں دھمکی دی ہے کہ اگر وہ اپنے گھروں کی دیواروں پر لکھے گئے الفاظ کو مٹائیں گے تو انہیں راشن کی فراہمی بند کردی جائے گی۔ بیچارے غریب لوگ اس دھمکی کے سامنے بے بس ہیں اور سرعام ذلت و رسوائی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب جب مقامی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداران سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کی جانب سے کوئی ایسا کوئی حکم یا بیان جاری نہیں کیا گیا کہ امدادی راشن موصول کرنے والوں کے گھروں کی دیواروں پر کوئی بھی ایسی تحریر لکھی جائے جو ان کی توہین کا سبب بنے۔ ایڈیشنل کلکٹر دوسہ کے سی شرما کا کہنا تھا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے شکایات موصول ہورہی تھیں کہ امدادی راشن ساز باز کے ذریعے ایسے لوگوں کو بھی مل رہا ہے جو اس کے حقدار نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ غالباً اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے نچلی سطح کے اہلکاروں نے امدادی رشن وصول کرنے والوں کے گھروں پر یہ الفاظ تحریر کروادئیے تاکہ امدادی رشن کی اصل حقداروں میں تقسیم کو یقینی بنایا جاسکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ معاملے کا جائزہ لیا جارہاہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…