جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

امریکہ ‘ایٹمی حملوں سے بچاؤ کیلئے زیر زمین بنکرز کا خفیہ نیٹ ورک

datetime 22  جون‬‮  2017 |

واشنگٹن(این این آئی) امریکا نے ایٹمی حملوں سے بچاؤ کیلئے زیر زمین بنکرز کا ایک خفیہ نیٹ ورک بنا رکھا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں یہ بنکرز 1950ء میں بنائے گئے تھے جنہیں پہلی دفعہ نائن الیون حملوں کے دوران استعمال کیا گیا۔ ان بنکرز میں امریکی انتظامیہ کے ہائی پروفائل عہدیداروں کو تو چھپنے کی اجازت ہو گی، مگر ان کی بیویوں کو نہیں تاہم ان کی سیکرٹریوں کو پناہ ملے گی۔قومی سلامتی کے ماہر گیرٹ ایم گراف کی

نئی کتاب ریون راک کے مطابق سابق امریکی صدور جان ایف کینیڈی، آئزن ہاور، روز ویلٹ اور ٹرومین جانتے تھے کہ ایٹمی حملے سے محفوظ رہنے کیلئے صرف اشرافیہ کیلئے جگہ موجود ہے تاہم اس کے باوجود وہ امریکی شہریوں کو ایٹمی جنگ کی صورت میں محفوظ رکھنے کی تسلیاں دیتے رہے۔ یہ بنکرز کیمپ ڈیوڈ کے نزدیک وائٹ ہاؤس کے نیچے بنائے گئے ہیں۔ بنکرز کا یہ نظام وائٹ ہاؤس کے ایسٹ ونگ اور ویسٹ ونگ سے ملا ہوا ہے جس میں صدر کا نجی کمرہ 8 فٹ چوڑا اور 10 فٹ لمبا ہے۔وائٹ ہاؤس کا ڈیزائن بنانیوالے لورینزو ونسلو نے پہلا بنکر تعمیر کیا تھا۔ مشرقی ونگ میں 40 مربع فٹ کے دو کمرے بنانے کیلئے کنکریٹ کی دیواریں بنائی گئیں۔ ان میں سے ایک کمرے میں ایک سو افراد پناہ لے سکتے ہیں۔ ان کمروں میں خوراک، پانی اور ادویات موجود ہیں اور یہ 5 سو پاؤنڈ وزنی بم سے پناہ لینے والوں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں کئی ایسے بنکرز تعمیر کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ خوراک ختم ہونے کی صورت میں زندگی بچانے کیلئے چوہوں، جنگلی پرندوں اور پالتو جانوروں کو استعمال میں لانے کا بھی منصوبہ ہے۔یہ بنکرز کولڈ وار کے دوران روس کی جانب سے ایٹمی حملے سے بچاؤ کیلئے تعمیر کئے گئے تھے، جن میں پناہ لے کر حکومتی عہدیدار خود کو تو بچا لیں گے لیکن باقی امریکیوں کو مرنے کیلئے چھوڑ دیں گے۔ سابق

امریکی صدر بش، نائب صدر ڈک چینی اور اعلیٰ حکام نے نائن الیون حملوں کے دوران ان بنکرز میں پناہ لی تھی۔ واضح رہے کہ آج امریکا کے پاس 6800 ایٹمی ہتھیار ہیں جبکہ روس کے پاس 7 ہزار ہیں۔



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…