اتوار‬‮ ، 01 مارچ‬‮ 2026 

عراق اور شام میں داعش کے زیرِ استعمال بموں اور بارودی سامان کے اہم اجزا کا دوسرا بڑا ماخذ بھارت نکلا 

datetime 20  جون‬‮  2017 |

لندن(این این آئی) ایک تحقیقی رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ عراق اور شام میں داعش کے زیرِ استعمال بموں اور بارودی سامان کے اہم اجزا کا دوسرا بڑا ماخذ بھارت ہے۔لندن میں ’’کنفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ‘‘ نامی ادارے کے مطابق شام اور عراق میں داعش جو بم اور دھماکہ خیز مواد استعمال کررہی ہے اس کی تاریں، سیفٹی فیوز، ڈیٹونیٹرز اور دیگر سامان بھارتی کمپنیوں کے تیارکردہ ہیں۔

واضح رہے کہ یہ تنظیم دنیا بھر میں جاری فوجی ہتھیاروں کی سپلائی اور ان کے ذمہ دار ممالک پر نظر رکھتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ داعش کل 51 کمپنیوں کا اسلحہ و گولہ بارود استعمال کررہی ہے جو 20 مختلف ممالک سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ ان میں روس، امریکہ، برازیل، ایران، بیلجیئم، ہالینڈ اور جاپان بھی ہیں لیکن بھارتی ادارے دوسرے بڑے سپلائر ہیں ان میں سرفہرست ترکی ہے اور ترکی میں تیارکردہ 700 اقسام کا اسلحہ اور اشیائے حرب میدانِ جنگ سے برآمد کی گئی ہیں ان میں ترک کمپنیوں کی تعداد 13 اور بھارتی کمپنیوں کی تعداد 7 ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی اداروں نے ’’قانونی طور پر لائسنس کے تحت لبنان اور ترکی کو ہتھیار اوردیگر عسکری سامان برآمد کیا ہے‘‘ بھارتی وزارتِ دفاع نے اس پر تبصرے سے انکار کردیا ہے تاہم کنفلکٹ آرمامینٹ ریسرچ کے مطابق اب تک اس کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں کہ بھارتی کمپنیوں نے براہِ راست داعش کو یہ اشیا فراہم کی ہوں اس کے علاوہ عراق اور ترکی کان کنی اور زراعت کے بھی کئی آلات برآمد کررہے ہیں جن کے ذیلی آلات مثلاً ڈیٹونیٹر تار وغیرہ کو بہت آسانی سے تبدیل کرکے تخریب کاری اور جنگوں کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…