جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

تنازعے کے بعدپہلی بار امارات کھل کر سامنے آگیا،قطر سے قطع تعلق کی اصل وجوہات دنیا کو بتادیں

datetime 13  جون‬‮  2017 |

ابوظہبی(این این آئی) متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے کہاہے کہ قطر پر لازم ہے کہ وہ خطے میں واقع ممالک کے ساتھ مسئلے کے مرکزی پہلو سے نمٹے۔ انہوں نے باور کرایا کہ شدت پسندی اور دہشت گردی کے لیے دوحہ کی سپورٹ نے اس کے مقام کو نقصان پہنچایا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک بیان میں قرقاش نے کہاکہ بحران کا حل بین الاقوامیت یا ترکیت سے حاصل نہیں ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ مسئلے کا حل مظلومیت کے رونے سے یا بین الاقوامیت اور ترکیت کے ذریعے نہیں ہوگا بلکہ ایک بھائی کے اس احساس کے ذریعے ہوگا کہ وہ اپنے پڑوسی کے لیے تکلیف کا سبب ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ شدت پسندی اور دہشت گردی کی سپورٹ سے علاحدگی اختیار کر لی جائے۔انہوں نے کہاکہ قطر اپنے تصرفات کے سبب پیدا ہونے والے سیاسی بحران کو محاصرے کا نام دے کر انسانی حقوق کا معاملہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قطر کی جانب محاصرے کی یہ تشریح کھلی ہوئی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے ساتھ میل نہیں کھاتی جہاں طیاروں کا بڑا بیڑہ موجود ہے۔ ان کے نزدیک قطر کا حالیہ بحران کو انسانی حقوق کے مسئلے کا رنگ دینا.. مسئلے کی بنیاد سے فرار اختیار کرنے کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ ادھرقطری حکام نے کہاہے کہ بہت سے لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ صرف قطر کو ہی نقصان ہو گا، لیکن ایسا نہیں ہے۔ اگر قطر کو ایک ڈالر کا گھاٹا ہوا، تو دوسروں کا بھی ایک ڈالر ضائع ہو گا۔امریکی ٹی وی سے بات چیت میں قطرکے وزیرخزانہ العمادی نے کہا کہ ابھی تک ملک میں اشیائے صرف کی کوئی قلت نہیں تاہم ضرورت پڑنے پر ترکی، مشرق بعید اور یورپ سے اشیائے صرف درآمد کی جا سکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…