جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کلبھوش یادو کیس،پاکستان اب بہت جلد کلبھوشن کو پھانسی پر لٹکا دے گا کیونکہ ۔۔۔!بھارتی میڈیااپنی ہی حکومت پر ٹوٹ پڑا

datetime 15  مئی‬‮  2017 |

نئی دہلی(آئی این پی)عالمی عدالت میں کلبھوشن یادو کی سزا کے خلاف بھارتی حکومت کی درخواست پر ٹھوس پاکستانی موقف نے بھارتی میڈیا کی چیخیں نکلوا دیں،بھارتی میڈیا سٹپٹا گیا اور مودی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتا رہا اور عالمی عدالت میں جانا مودی سرکار کی سب سے بڑی غلطی قرار دیدیا۔معروف بھارتی اخبار ’’دی ہندو‘‘ کا کہنا ہے جاسوس کلبھوشن یادیو کا معاملہ بین الاقوامی عدالت میں لے جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

پاکستان پہلے ہی عالمی عدالت کو بتا چکا ہے کہ اس کے دفاعی معاملات عالمی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔پاکستان عالمی عدالت کے فیصلوں کو ماننے کا پابند نہیں ہے۔ پاکستان نے 29 مارچ کو عالمی عدالت کے دائرہ اختیار سے نکلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ آئی سی جے پاکستان سے اپنے فائنل آرڈر کو منوانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ پھانسی پر عملدرآمد روکنے کے لیے بین الاقوامی عدالت کو حکم دینا ہوتا ہے لیکن اس معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔انڈین ٹی وی چینل’’ اے بی پی‘‘ کے مطابق صورت حال قابو میں نہیں رہی ، بھارت عالمی عدالت انصاف میں اپنا مقدمہ ہار چکا ہے،پاکستان اب بہت جلد کلبھوشن کو پھانسی پر لٹکا دے گا، بھارتی حکومت کو عالمی عدالت میں جانے کی بجائے سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل کرنی چاہئے تھی۔’’انڈیا ٹوڈے ‘‘کا کہنا ہے کہ عالمی عدالت انصاف کو جذبات، نمائش اور غصے سے قابو نہیں کیا جا سکتا بھارت نے کمزور دلائل کا سہارا لیا ہے۔’’اے پی این نیوز‘‘ کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے ہریش سالوے کے دلائل حقائق سے ہٹ کر تھے اور انہوں نے پاکستان کو اپنا موقف مزید بہتر انداز میں پیش کرنے کا راستہ دیا۔انڈین ٹی وی چینل’’ اے بی پی‘‘ کے مطابق صورت حال قابو میں نہیں رہی ، بھارت عالمی عدالت انصاف میں اپنا مقدمہ ہار چکا ہے،پاکستان اب بہت جلد کلبھوشن کو پھانسی پر لٹکا دے گا،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…