جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی بادشاہ شاہ سلمان نے اپنے بیٹے کو امریکا میں اہم ذمہ داریاں سونپ دیں

datetime 23  اپریل‬‮  2017 |

ریاض(آئی این پی)سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے اپنے سعودی ائیر فورس میں پائلٹ بیٹے کو امریکہ میں سفیر مقرر کردیا ۔سعودیہ عرب کی پریس ایجنسی کے مطابق پرنس عبد اللہ بن فیصل بن ترکی کو امریکی سفارتکار کے عہدے سے ہٹا کر پرنس خالدبن سلمان بن عبد العزیز کو اس عہدے پر مقررکیا گیا ہے ۔پرنس عبد اللہ تقریبا ایک سال تک امریکی سفارتکار کے عہدے پر تعینات رہے ۔پرنس خالد امریکہ میں سفارتکار تعینات ہونے سے

پہلے سعودی ائیر فورس میں فائٹر پائلٹ کے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور انہوں نے حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن میں بھی حصہ لیا۔العربیہ نیوز کے مطابق شہزادہ خالد مملکت کے نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزاہ محمد بن سلمان کے چھوٹے بھائی ہیں۔ انہوں نے امریکی ریاست مسیسی پی کی کولمبس ائر بیس سیہوابازی کی تربیت مکمل کی۔ وہ سعودی فضائیہ میں شامل جدید ترین لڑاکا F-15 کے ہواباز کے طور پر داعش کی بیخ کنی کے بنائے گئے بین الاقوامی اتحاد کے پلیٹ فارم سے یمن میں فضائی کارروائیوں میں شریک رہے ہیں۔2014 میں اس وقت کے سعودی ولی عہد اور موجودہ فرمانروا کے حوالے سے سعودی پریس ایجنسی نے ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ میرے ہواباز بیٹوں نے دین، ملک اور اپنے فرمانروا کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔سعودی عرب نے امریکا، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور اردن کے ساتھ ملکر داعش کے خلاف متعدد فضائی کارروائیاں کی ہیں۔نوجوان سعودی شہزادہ اکتوبر 20155 سے امریکا میں سفیر کے طور پر خدمات سرانجام دینے والے شہزادہ عبداللہ بن فیصل کی جگہ لیں گے۔۔سعودی عرب نے امریکا، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور اردن کے ساتھ ملکر داعش کے خلاف متعدد فضائی کارروائیاں کی ہیں۔نوجوان سعودی شہزادہ اکتوبر 20155 سے امریکا میں سفیر کے طور پر خدمات سرانجام دینے والے شہزادہ عبداللہ بن فیصل کی جگہ لیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…