ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

غلطی ہوگئی یا ٹارگٹ بنایاگیا؟امریکہ نے افغانستان میں بھارت پر آفت ڈھادی،’’را‘‘ کے متعدد ایجنٹ ہلاک

datetime 22  اپریل‬‮  2017 |

کابل/اسلام آباد (آئی این پی) افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرہار میں امریکی نان نیوکلیئربم حملے میں 15بھارتی شہریوں کی ہلاکت کا انکشاف ہوا ہے جن میں سے چند افراد کا تعلق بھارتی خفیہ ایجنسی “را”سے تھا اور وہ پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان مشرقی صوبہ ننگرہار میں امریکی نان نیوکلیئربم حملے میں 15بھارتی شہریوں کی ہلاکت کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ننگرہار میں ہلاک ہونے والے بھارتی شہری پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے اورہلاک افراد میں چند کاتعلق بھارتی خفیہ ایجنسی “را”سے تھا۔ ذرائع کے مطابق ’’را‘‘اہلکارافغان خفیہ ادارے این ڈی ایس کیساتھ مل کرکام کررہے تھے۔واضح رہے کہ13اپریل کو امریکی افواج نے افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں داعش کے ٹھکانے پر اپنے ذخیرے کا سب سے بڑا غیر جوہری بم جی بی یو 43 گرایا تھا ۔ پنٹا گون حکام نے بتایا تھا کہ پاکستانی سرحد سے ملحق ننگرہار کے علاقے میں داعش کی سرنگوں اور غار کو توڑنے کیلئے گرایا جانے والے بم کا نام جی بی یو۔ 43 ہے جسے بموں کی ماں بھی کہا جاتا ہے۔ یہ غیر جوہری سب سے بڑا بم ہے جسے امریکہ نے کسی جنگ میں پہلی مرتبہ استعمال کیا ہے وائٹ ہاؤ س کے پریس سیکرٹری سین سپائر نے معمول کی بریفنگ کے دوران بتایا کہ یہ بم افغانستان کے مقامی وقت کے مطابق بدھ کی شام سات بجے گرایا گیا۔ یہ ایک بڑا، طاقتور اور انتہائی درست نشانہ لگانے والا ہتھیار ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے ملحق سرحد کے قریب غاروں میں سرنگیں کھود کر دہشت گردوں نے خفیہ پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں جنہیں وہ افغانستان کے علاوہ پاکستان پر حملوں کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں۔

افغانستان میں امریکی فورسزنے ایک بیان میں کہاہے کہ صوبہ ننگرہارمیں GBU-43/Bمیسوآرڈیننس ائیربلاسٹ بم ضلع آشن میں ایک ٹنل کمپلیکس پرگرایاگیا،بم 9800کلوگرام وزنی ہے ۔امریکی اور افغان حکام نے بم حملے میں 90سے 95دہشتگردوں کے مارے جانے کی تصدیق کی تھی جبکہ ایک رپورٹ میں کہا گیا تھاکہ ننگر ہار کے ضلع اچین کے علاقے مہنددرہ پر امریکہ کی جانب سے سب سے بڑے غیر ایٹمی بم

گرائے جانے کے ایک ہفتہ بعد داعش کے تباہ ہونے والے مرکز کے ملبے سے 13 بھارتی باشندوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جن کا تعلق کیرالہ سے ہے اور وہ ہندو ہیں۔یہ افراد بھارتی سکیورٹی فورس کے اہلکار تھے، جو پاکستان کے خلاف سازشوں اور داعش کارندوں کو تربیت دینے کیلئے اس مرکز میں آئے تھے۔ افغان حکام نے ان لاشوں کو کابل منتقل کرنے کے بعد بھارتی سفارتخانے سے رابطہ کیا ہے لیکن بھارتی سفارتخانے نے تاحال لاشوں کو وصول کرنے کے بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…