ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

ترک صدر کو بڑا دھچکا،ریفرنڈم خطرے میں پڑ گیا

datetime 22  اپریل‬‮  2017 |

انقرہ (آئی این پی)ترکی کی بڑی اپوزیشن جماعت نے آئینی تبدیلیوں کے ذریعے پارلیمانی نظام کو بدلنے کی منظوری کے لیے ہونے والے ریفرنڈم کے اختتامی لمحات میں ووٹ کے قانون کو بدلنے کو ملک کی اعلی عدالت میں چیلنج کردیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترکی میں گزشتہ اتوار کو منعقدہ ریفرنڈم میں تبدیلیوں کے بعد وزیراعظم کے اختیارات کو ختم کرنے کے حق میں 51.4 فی صد ووٹ ڈالے گئے تھے۔

سپریم الیکشن بورڈ(وائی ایس کے) کی جانب سے آخری وقت میں سرکاری مہر کے بغیر لفافوں میں بند ووٹوں کو قبول کرنے کے فیصلے پر تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔ ری پبلکن پارٹی (سی ایچ پی) کے وکیل عطیلا کارٹ نے گزشتہ روز کونسل اف اسٹیٹ میں باقاعدہ قانونی پٹیشن دائر کردی جس کے بعد انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ اقدام صرف نہیں کہنے والے ووٹرز کے لیے نہیں ہے بلکہ تمام ووٹرز کے قانونی حق کے تحفظ کے لیے ہے۔عثمانی دور میں قائم کونسل آف اسٹیٹ کو ترکی کی سب سے بڑی انتظامی عدالت ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔عطیلا کارٹ نے تمام صورت حال کو ‘مکمل طور پرماورائے قانون’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وائی ایس کے کی جانب سے بغیر مہر کے لفافوں میں بیلٹ جمع کرنے کے لیے ‘نہیں’ ووٹرز کو بھی اجازت دی گئی تھی۔قبل ازیں سی ایچ پی کے ڈپٹی رہنما بولینت ٹیزان نے کہا تھا کہ پارٹی، وائی ایس کے کی جانب سے قانون میں تبدیلی کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرے گی۔یاد رہے کہ سی ایچ پی کے علاوہ کردش پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی)سمیت اپوزیشن نے گزشتہ ہفتے ہونے والے ریفرنڈم کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔دوسری جانب وائی ایس کے کے دس اراکین نے ریفرنڈم کو معطل کرنے کو مسترد کیا تھا جبکہ صرف ایک ووٹ معطلی کے حق میں پڑا تھا۔

ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم کا کہنا ہے کہ ‘عوام کے فیصلے تبدیل کرنے کے لیے عدالت میں جانا غیرجمہوریہ راستہ ہے۔انقرہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ سی ایچ پی اور دیگر کے پاس اس کو چیلنج کرنے کا حق ہے لیکن اس کے استعمال کے حوالے سے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں۔بن علی یلدرم کا کہنا تھا کہ عوام اپنا فیصلہ کرچکے ہیں اور عوام کے فیصلوں کی مخالفت کرنا جمہوریت میں یقین نہ رکھنے کے مترادف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کوششیں فضول ہیں اور ہرکسی کا وقت ضائع کرنے کا یہ کوئی موقع نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…