جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

امریکہ میں ایک شخص نے فیس بک پر ایسی ویڈیو دکھا دی کہ دیکھتے ہی پولیس کی دوڑیں لگ گئیں

datetime 18  اپریل‬‮  2017 |

نیویارک(آئی این پی)امریکی پولیس نے فیس بک پرایک شخص کو لائیو قتل کرتے ہوئے دکھانے والے ملزم کی تلا ش شروع کردی۔غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست اوہایو میں کلیولینڈ پولیس اس شخص کی تلاش میں ہے جس نے ایک شخص کے قتل کو فیس بک پر لائیو نشر کیا تھا۔سٹیو سٹیفن نامی مشتبہ شخص نے ایک علیحدہ ویڈیو پوسٹ میں کہا ہے کہ اس نے 13 افراد کا قتل کیا ہے اور وہ مزید قتل کرنے والا ہے۔کلیولینڈ پولیس

کے سربراہ کالون ولیئمز نے ایک ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا کہ انھیں باقی کسی اور ہلاکت کی معلومات نہیں ہیں۔مسٹر ولیمز نے کہا ہے کہ مختلف قسم کی سکیورٹی فورسز مسٹر سٹیفن کی تلاش میں ہیں۔کلیولینڈ پولیس نے ان کا شکار ہونے والے کی شناخت 74 سالہ رابرٹ گاڈون کے طور پر کی ہے۔پولیس سربراہ کالون ولیئمز نے اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں آج رات مزید خون بہانے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں اسے آج کسی نتیجے پر پہنچانا ہے۔ ہمیں سٹیو کو گلیوں سے نکال کر لانا ہے۔انھوں نے بتایا کہ حکام نے اس ‘احمقانہ’ واقعے کے بارے میں ‘اوہایو ریاست اور اس کے باہر’ انتباہ جاری کرتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس شخص کے قریب مت جائیں۔ حکام کے مطابق وہ شخص ممکنہ طور پر مسلح ہے اور خطرناک ہے۔کلیولینڈ پولیس نے اپنی ویب سائٹ پر مسٹر سٹیفن کی ایک تصویر جاری کی ہے جس میں ان کا قد چھ فٹ ایک انچ بتایا گیا ہے اور وہ سیاہ فام ہیں جس کی رنگت درمیانے درجے میں آتی ہے۔ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ایک سفید یا بادامی رنگ کی ایس یو وی گاڑی چلا رہے ہیں۔مسٹر ولیئمز نے کہا کہ مقتول کو بغیر کسی وجہ کے اچانک چن لیا گیا ہے اور انھوں نے اسے بے معنی قتل قرار دیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ مسٹر سٹیفن کو واضح طور پر مسئلہ ہے اور اس پر زور دیا ہے کہ وہ آگے آئے تاکہ اس کو وہ

مدد فراہم کی جاسکے جس کی اسے ضرورت ہے۔سی این این کے مطابق امریکی تفتیشی ادارہ ایف بی آئی مقامی پولیس کے ساتھ تفتیش میں تعاون کر رہا ہے۔کلیو لینڈ کے میئر فرینک جیکسن نے کہا کہ مسٹر سٹیفن جان لیں کہ اسے بالآخر انھیں پکڑ لیا جائے گا۔خیال رہے کہ فیس بک پر براہ راست قتل کے دکھائے جانے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گذشتہ سال جون میں شکاگو کی ایک سڑک پر ایک شخص نے فیس بک لائیو کے دوران خود کو

گولی مار کر حودکشی کر لی تھی، جبکہ مارچ میں ایک نا معلوم شخص نے براہ راست نشریات میں 16 بار فائرنگ کی تھی۔فیس بک لائیو میں کسی بھی شخص کو ریئل ٹائم میں براہ راست نشر کی سہولت فراہم رہتی ہے۔ یہ سہولت سنہ 2010 میں شروع کی گئی تھی لیکن اب اس کا رواج عام ہوچکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…