اتوار‬‮ ، 08 فروری‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر بھارت کے ہاتھوں سے نکل گیا،سابق بھارتی وزیر داخلہ کے اعترافات نے بھارتیوں کی نیندیں اُڑادیں

datetime 14  اپریل‬‮  2017 |

نئی دلی(آئی این پی )مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلی فاروق عبداللہ کے بعد بھارت کے سابق بھارتی وزیر داخلہ پی کے چدم برم نے بھی کہہ دیا ہے کہ مودی حکومت اور مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت نے کشمیر کے معاملے پر انتہائی خطرناک راستہ اپنا لیا ہے، ہم کشمیر کو کھو رہے ہیں، جو راستہ بھارتی اور ریاستی حکومت نے اپنا رکھا ہے اس سے وادی میں امن نہیں آ سکتا اور نا ہی عوام کی ہمدردیاں حاصل کی جا سکتی

ہیں، مودی سرکار کو آگے چل کر وادی میں مزید مشکل وقت دیکھنا پڑے۔بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلی فاروق عبداللہ کے بعد بھارت کے سابق بھارتی وزیر داخلہ پی کے چدم برم بھی مقبوضہ وادی میں بھارتی حکومت کے مظالم پر پھٹ پڑے۔بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رکن پی کے چدم برم نے نئی دلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے میری پوزیشن بالکل واضح رہے کہ ہم کشمیر کو کھو رہے ہیں بھارت کی موجودہ حکومت اور مقبوض کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت نے کشمیر کے معاملے پر انتہائی خطرناک راستہ اپنا لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو راستہ بھارتی اور ریاستی حکومت نے اپنا رکھا ہے اس سے وادی میں امن نہیں آ سکتا اور نا ہی عوام کی ہمدردیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔سابق بھارتی وزیر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں ضمنی الیکشن کے دوران تاریخ کا سب سے کم ٹرن آٹ اس بات کا اشارہ ہے کہ مودی سرکار کو آگے چل کر وادی میں مزید مشکل وقت دیکھنا پڑے گا، حکومت کو مقبوضہ کمشیر میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایک معتدل پالسی اپنانی چاہیئے تھی۔کانگریس رہنما نے مودی سرکار اور مقبوضہ وادی کی کٹھ پتلی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں حکومتوں کو اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ کئے گئے دعدے کے مطابق تمام

اسٹیک ہولڈزر کے ساتھ بات چیت کریں، عوام کے خلاف فوج اور پولیس کا استعمال نہ کیا جائے۔ چدم برم کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی اور پی ڈی پی کی حکومت کا اتحاد وادی میں اشتعال انگیزی کی پہلی بنیاد ہے، اس جوڑ کو ایک مقدس اتحاد کا نام دیا گیا جسے عوام نے مسترد کردیا جب کہ دوسری اشتعال انگیزی پی ڈی پی کی جانب سے عوام سے کئے گئے وعدوں سے مکرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…