جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر بھارت کے ہاتھوں سے نکل گیا،سابق بھارتی وزیر داخلہ کے اعترافات نے بھارتیوں کی نیندیں اُڑادیں

datetime 14  اپریل‬‮  2017 |

نئی دلی(آئی این پی )مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلی فاروق عبداللہ کے بعد بھارت کے سابق بھارتی وزیر داخلہ پی کے چدم برم نے بھی کہہ دیا ہے کہ مودی حکومت اور مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت نے کشمیر کے معاملے پر انتہائی خطرناک راستہ اپنا لیا ہے، ہم کشمیر کو کھو رہے ہیں، جو راستہ بھارتی اور ریاستی حکومت نے اپنا رکھا ہے اس سے وادی میں امن نہیں آ سکتا اور نا ہی عوام کی ہمدردیاں حاصل کی جا سکتی

ہیں، مودی سرکار کو آگے چل کر وادی میں مزید مشکل وقت دیکھنا پڑے۔بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلی فاروق عبداللہ کے بعد بھارت کے سابق بھارتی وزیر داخلہ پی کے چدم برم بھی مقبوضہ وادی میں بھارتی حکومت کے مظالم پر پھٹ پڑے۔بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رکن پی کے چدم برم نے نئی دلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے میری پوزیشن بالکل واضح رہے کہ ہم کشمیر کو کھو رہے ہیں بھارت کی موجودہ حکومت اور مقبوض کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت نے کشمیر کے معاملے پر انتہائی خطرناک راستہ اپنا لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو راستہ بھارتی اور ریاستی حکومت نے اپنا رکھا ہے اس سے وادی میں امن نہیں آ سکتا اور نا ہی عوام کی ہمدردیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔سابق بھارتی وزیر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں ضمنی الیکشن کے دوران تاریخ کا سب سے کم ٹرن آٹ اس بات کا اشارہ ہے کہ مودی سرکار کو آگے چل کر وادی میں مزید مشکل وقت دیکھنا پڑے گا، حکومت کو مقبوضہ کمشیر میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایک معتدل پالسی اپنانی چاہیئے تھی۔کانگریس رہنما نے مودی سرکار اور مقبوضہ وادی کی کٹھ پتلی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں حکومتوں کو اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ کئے گئے دعدے کے مطابق تمام

اسٹیک ہولڈزر کے ساتھ بات چیت کریں، عوام کے خلاف فوج اور پولیس کا استعمال نہ کیا جائے۔ چدم برم کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی اور پی ڈی پی کی حکومت کا اتحاد وادی میں اشتعال انگیزی کی پہلی بنیاد ہے، اس جوڑ کو ایک مقدس اتحاد کا نام دیا گیا جسے عوام نے مسترد کردیا جب کہ دوسری اشتعال انگیزی پی ڈی پی کی جانب سے عوام سے کئے گئے وعدوں سے مکرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…