اتوار‬‮ ، 08 فروری‬‮ 2026 

ایک ،دو بار نہیں آٹھویں مرتبہ ‘‘ روس شام کی حفاظت کیلئے سینہ تان کر کھڑا ہو گیا

datetime 14  اپریل‬‮  2017 |

ماسکو(این این آئی)روس نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں پیش کی جانے والی اس قرارداد کے مسودے کو ویٹو کر دیا ہے جس میں گذشتہ ہفتے کے مبینہ کیمیائی حملے کی مذمت کی گئی تھی اور شامی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ تفتیش کاروں کے ساتھ تعاون کرے۔یہ قرارداد امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی جانب سے پیش کی گئی تھی جنھوں نے روس کے ویٹو پر برہمی کا اظہار کیا۔یہ آٹھواں موقع ہے کہ سکیورٹی کونسل میں روس نے اپنے اتحادی شام کو بچایا ہے۔واضح رہے کہ

چار اپریل کو شام میں باغیوں کے قبضے میں علاقے شیخون میں مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔مغربی اتحاد نے اس مبینہ حملے کی ذمہ داری شامی حکومت پر ڈالی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فضائی اڈے پر میزائلوں سے حملے کی منظوری دی تھی جہاں سے کیمیائی ہتھیاروں کا حملہ کیا گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سکیورٹی کونسل میں پیش کیے گئے قرارداد کے مسودے میں انسداد کیمیائی ہتھاروں کی تنظیم کی جانب سے تحقیقات کی حمایت کی گئی تھی۔اس قرارداد کے تحت شامی حکومت پر لازم ہوتا کہ وہ فوجی معلومات فراہم کرتی جس میں جنگی طیاروں کی اڑان کا ٹائم ٹیبل اور فضائی اڈے تک رسائی شامل تھی۔واضح رہے کہ شامی حکومت کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تردید کرتی ہے۔سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل اراکین ممالک میں شامل چین کے علاوہ ایتھوپیا اور قزاقستان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ سکیورٹی کونسل میں 10 ممالک کے قرارداد کے حق میں جبکہ روس اور بولیویا نے قرار کے خلاف ووٹ دیا۔روس کی جانب سے مسودے کو ویٹو کیے جانے کے بعد اقوام متحدہ میں امریکی سفارتکار نکی ہیلی نے روس کی مذمت کرتے ہوئے کہا ‘ہر بار اسد کا جہاز شہریوں پر بم گراتا ہے اور ہر بار اسد شہری کو بھوکا رکھتا ہے روس اپنے آپ کو عالمی برادری میں تنہا کر رہا ہے۔دوسری جانب واشنگٹن میں

نیٹو کے سیکرٹری جنرل کے ہمراہ صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ شامی فوج نے مبینہ کیمیائی حملہ روس کو آگاہ کیے بغیر کیا ہو گا تو ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں یہ بالکل ممکن ہے۔ میرے خیال میں ایسا ہوا نہیں ہو گا۔ میں یہ سمجھنا چاہوں گا کہ روس کو معلوم نہیں تھا لیکن ان کو معلوم ہو گا کیونکہ روس اس اڈے میں موجود تھا۔ٹرمپ نے کہا کہ یہ بہت اچھا ہوا کہ چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…