جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

لندن میں خلیجی ممالک کے فوجی اتحاد کے سربراہ سعودی جنرل پر حیرت انگیزحملہ

datetime 2  اپریل‬‮  2017 |

ریاض/لندن(آئی این پی) لندن میں سعودی جنرل پرانڈے کے ناکام حملے کے معاملے پر برطانوی حکومت نے باضابطہ طور پر سعودی حکومت سے معذرت کرلی،یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری جنگ کی قیادت کرنے والے سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والے خلیجی ممالک کے فوجی اتحاد کے سربراہ جنرل احمد اسیری پر گزشتہ ہفتے لندن میں انڈے سے حملہ کیا گیا تھا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانوی حکومت نے

جنرل احمد اسیری پر انڈے کے ناکام حملے پر باقاعدہ معزرت کرلی ہے ۔برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے سعودی عرب کے وزیر دفاع اور سعودی بادشاہ کے بیٹے محمد بن سلیمان سے رابطہ کرکے معزرت کی۔دوسری جانب نشریاتی ادارے مڈل ایسٹ آئی ادارے نے ایک وڈیو جاری کی ہے، جس میں قیام امن کے لیے کام کرنے والے کارکنان جنرل احمد اسیری پرحملہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سعودی جنرل کے دورے کے دوران کارکنان نعرے بازی کر رہے ہیں، جب کہ ایک کارکن جنرل احمد اسیری کو پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم سعودی جنرل کارکن کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے کمرے میں داخل ہوجاتے ہیں۔خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی جنرل پر پیچھے سے انڈہ اس وقت پھینکا گیا، جب وہ اندر کمرے میں داخل ہوچکے تھے۔خیال رہے کہ یمن میں سعودی عرب کی سربراہی میں خلیج ممالک کا فوجی اتحاد حوثی باغیوں کے خلاف گزشتہ 2 سال سے جنگ لڑ رہا ہے، اس جنگ میں ہزاروں عام شہری ہلاک جب کہ لاکھوں افراد بے گھرہوچکے ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں عرب اتحاد کی فضائی کارروائی شروع ہونے سے اب تک ساڑھے 6 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد نے مارچ 2015 میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔اس عرب

اتحاد کو امریکا اور برطانیہ کی بھی حمایت حاصل ہے اور اس میں 9 عرب ممالک شامل ہیں اور انہوں نے فضائی کارروائیوں کے ذریعے حوثی باغیوں کو جنوبی یمن سے دور ہونے پر مجبور کردیا ہے تاہم اتحادی فوج کو اب بھی باغیوں کی مخالفت کا سامنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…