جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان کیا سازش رچائی جارہی ہے ؟ مصری مفتی اعظم کا اہم انکشاف

datetime 2  اپریل‬‮  2017 |

قاہرہ(این این آئی)مصر کے مفتی اعظم ڈاکٹر شوقی علام نے انکشاف کیا ہے کہ مصری دارالافتاء نے ملک میں عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر حملوں کی ترغیب پر مبنی تین ہزار فتوے جاری کیے جا چکے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شوقی علام نے کہا کہ ’بشری تنوع مشیت ایزدی ہے مگر عقائد کے اختلاف کی بنیاد پر نفرت پھیلانے کا کوئی جواز نہیں۔ اسلام انسانوں کے درمیان

بقائے باہمی کے اصول پر زور دیتا اور نفرت کو مسترد کرتا ہے۔مصر کے مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ انسان دشمن عناصر مصر میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو آپس میں دست وگریباں کرنا چاہتے ہیں مگر ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ڈاکٹر شوقی علام نے کہا کہ مسلمانوں نے فتووحات کے بعد کبھی کسی مخالف مذہب کے مذہبی مراکز کو تباہ نہیں کیا۔ قاہرہ اور الجیزہ میں موجود عیسائیوں کی قدیم عبادت گاہوں کا جوں کا توں رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمان فاتحین نے عیسائیوں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایک تازہ تحقیق میں پتا چلا ہے کہ ملک میں عیسائی برادری کے گرجا گھروں پر حملوں کی ترغیب پر مبنی 3 ہزار فتوے موجود ہیں۔ ان میں 90 فی صد فتوے انتہا پسند گروپوں کی طرف سے جاری کردہ ہیں۔خیال رہے کہ مصر میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران عیسائیوں کی عبادت گاہوں کو حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ سال 2016ء کے دوران مصر میں گرجا گھروں پر متعدد حملے کیے گئے۔ ان میں سب سے خوفناک حملہ قاہرہ کے العباسیہ کے علاقے میں واقعے المرقسیہ کیتھڈرل چرچ میں حملہ ہے جس میں کم سے کم 25 افراد ہلاک اور 31 زخمی ہو گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…